Bulleh Shah Mazar Demolished: پہاڑوں کی رانی مسوری میں ہندو تنظیم کے کارکنان نے بابا بلّ شاہ کی تقریباً 100 سال پرانی مزارمیں جم کرتوڑپھوڑکی۔ ہندو تنظیم کے اراکین نے نہ صرف مزاروں کومسمارکیا بلکہ وہاں رکھا چندہ باکس بھی توڑدیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بابا بلّ شاہ کمیٹی کے اراکین جائے وقوعہ پرپہنچے اورگہرے غم وغصے کا اظہارکیا۔ کمیٹی کے عہدیداروں نے واضح کیا کہ مزارکسی سرکاری اراضی یا تجاوزات کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک نجی اسکول کی جائیداد پرواقع ہے جواسکول انتظامیہ کی اجازت سے برسوں قبل قائم کیا گیا تھا۔ پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف تفتیش شروع کر دی ہے۔
مسلم طبقے میں شدید ناراضگی
اس واقعہ کے بعد مسلم سیوا تنظیم کے صدرنعیم قریشی نے کہا کہ پورے معاملے کی رپورٹ درج کرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اینٹ کا جواب پتھرسے دیا جائے گا۔ مسلم کمیونٹی کے اراکین نے کہا کہ قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ برادری کے ناراض اراکین نے اعلان کیا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اورمسوری تک مارچ کریں گے۔
بلّ شاہ کو ہندو تنظیم نے پاکستانی قرار دیا
دراصل، انتہا پسند ہندوتنظیموں کے کارکنوں نے اتراکھنڈ کے مسوری میں بلّ شاہ کا مقبرہ مسمارکردیا ہے۔ ہندوتنظیموں کا دعویٰ ہے کہ بلّ شاہ پاکستان کے کسورعلاقے کا رہنے والا تھا اور اس کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی وجہ سے ہندو تنظیموں نے رات کے اندھیرے میں بڑے ہتھوڑے کا استعمال کرتے ہوئے بلّ شاہ کے مقبرے کو مسمار کردیا۔ ہندو تنظیموں کے اراکین کا کہنا تھا کہ بلّ شاہ کا مقبرہ پاکستان میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سرکاری زمین پرناجائزقبضہ کرنے کی سازش ہے۔
بابا بلّ شاہ کو ہندو تنظیم نے بتایا ملحد
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مسلم کمیونٹی مقبرے کا احترام نہیں کرتی اس لیے انہیں اس انہدام کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔ ہندو تنظیم کے ارکان کا الزام ہے کہ مقبرے کی آڑمیں لوجہاد اورلینڈ جہاد کیا جا رہا ہے۔ ہندوتنظیم کے اراکین نے بلّ شاہ کوملحد قراردیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں ہندو یا مسلم کمیونٹی سے کوئی سروکارنہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے ملحد کے لیے مقبرہ بنانے کا کیا فائدہ ہے؟ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایسے مزارات کی کوئی دستاویزنہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



