Bharat Express DD Free Dish

uttrakhand news

وزیراعلیٰ پشکرسنگھ دھامی نے خبردارکیا ہے کہ عوامی مقامات کویرغمال نہ بنایا جائے۔ انتشار پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیو بھومی اپنے امن، ثقافت اور نظم وضبط کے لئے مشہورہے۔ یہاں قانون کی حکمرانی قائم رہے گی۔

اتراکھنڈ کے مسوری میں ایک ہندوتنظیم کے اراکین نے بلّ شاہ بابا کے مقبرے میں توڑ پھوڑ کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بلّ شاہ پاکستان کے رہنے والے تھے اوران کا مقبرہ پاکستان میں ہے۔ ہندوتنظیم سے وابستہ اراکین نے بھی بلّ شاہ کوملحد (ناستک) قراردیا۔ اس واقعہ سے مسلم طبقہ میں ایک طرف غم وغصہ پایا جا رہا ہے تو دوسری طرف خوف وہراس کا ماحول ہے۔

دہرادون میں منعقد ایک پروقار تقریب میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی عوامی و سیاسی زندگی پر مبنی کتاب ’’ہمالیہ کی جیونت اوشما‘‘ کا باضابطہ اجرا کیا گیا۔ اس کتاب کے رسمِ اجراء کے بعد آچاریہ پرمود کرشنم نے نئی نسل کی باصلاحیت ادیبہ، مصنفہ سنبھاؤنا پنت اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو مبارکباد دی ہے۔

اتراکھنڈ کی دھامی حکومت کو6 ہفتے کے اندرجواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مدرسوں کو بند کرنے کی مہم، مسلمانوں کو آئینی اختیارسے محروم کردینے کی ایک بڑی سازش ہے۔

واقعے کے فوراً بعد دیگر اساتذہ نے ملزم طالب علم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے نابالغ طالب علم کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اترکاشی کے دھرالی علاقے میں ہوئی تباہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانی کی رفتار اور ملبے کے دباؤ نے لمحوں میں سب کچھ تہس نہس کر دیا۔

اترپردیش اوراتراکھنڈ حکومت کوسپریم کورٹ نے کانوڑ یاترا کے دوران ڈھابوں پرکیوآرکوڈ لازمی قراردینے کے حکم پر راحت دی ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ یاترا اختتام پرہے اورڈھابہ مالک قانونی دفعات پر عمل کریں گے۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ یہ حکم مذہبی امتیاز کو فروغ دیتا ہے اور سپریم کورٹ کے گزشتہ سال کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ نے فیصلہ لیا ہے کہ اس سیشن سے ریاست کے مدارس کے سلیبس میں بڑی تبدیلی کی جائے گی، جس میں ’آپریشن سندور‘ کو شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ہندوستانی آئین میں گوا کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، پارلیمنٹ نےقانون بنا کر گوا کو پرتگالی سول کوڈ کو لاگو کرنے کا حق دیاتھا۔ لہذا، گوا واحد ریاست ہے جہاں یو سی سی پہلے سے ہی نافذ ہے۔

ون نیشن ون الیکشن پر گگوئی نے کہا کہ انہوں نے اس کی حمایت کی ہے۔ گگوئی نے کہا کہ ملک میں ہر سال انتخابات ہوتے ہیں۔ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ ہر سال لاگو ہوتا ہے۔ اس سے حکومت کا کام متاثر ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کی مختلف ریاستوں میں ہر 6 ماہ بعد انتخابات ہوتے ہیں۔