Bharat Express DD Free Dish

GRAP 4 Restrictions Removed: دہلی-این سی آرمیں ہٹائی گئیں گریپ-4 کی پابندیاں، ہوا میں سدھار کے بعد لیا گیا فیصلہ

دہلی-این سی آرمیں ہوا کے معیارمیں بہتری کے بعد، گریپ 4 کی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ اس میں تعمیراتی پابندیاں بھی شامل ہیں۔

نئی دہلی: دہلی-این سی آرمیں ہوا کے معیارمیں معمولی بہتری کے بعد، گریپ-4 کی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ تاہم، گریپ-3 کی پابندیاں برقراررہیں گی۔ گریپ-4 پابندیوں کوہٹانے کا فیصلہ منگل کے روزاے کیوآئی 378 تک پہنچنے کے بعد کیا گیا۔ کمیشن فارایئرکوالٹی منیجمنٹ (سی اے کیوایم نے ایک آرڈرمیں کہا ہے کہ فیز1، 2 اور3 کے تحت پابندیاں نافذ رہیں گی۔ گریپ-4 کی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ لوگوں سے گزارش ہے کہ گریپ 1، 2 اور4 مراحل کے تحت عائد پابندیوں پرسختی سے عمل کریں تاکہ اے کیوآئی کومزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔

درحقیقت، کمیشن فارایئرکوالٹی منیجمنٹ (سی اے کیوایم) کے گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان (گریپ) نے گریپ 4 کواین سی آراورآس پاس کے علاقوں میں 17 جنوری کو نافذ کیا تھا، جب دہلی کا اوسط اے کیوآئی تیزی سے بڑھنا شروع ہوا۔ اس کے بعد سے، دہلی کی یومیہ اوسط اے کیوآئی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی طرف سے جاری کردہ روزانہ اے کیوآئی بلیٹن کے مطابق، 18 جنوری کواے کیوآئی 440 پرریکارڈ کیا گیا تھا، جوکل (19 جنوری) کو بہترہوکر410 ہوگیا اورمنگل (20 جنوری) کومزید بہترہوکر378 ہوگیا۔

تاہم، این سی آرمیں تمام متعلقہ ایجنسیوں کے ذریعہ عمل درآمد، نگرانی اورجائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آنے والے دنوں میں اے کیوآئی کی سطح مزید نہ بڑھے۔ ایجنسیاں قریبی نگرانی رکھیں گی اور خاص طورپرموجودہ گریپ کے III، II اور I کے تحت اقدامات کو تیزکریں گی تاکہ این سی آرمیں موجودہ گریپ کے مرحلہ IV کو دوبارہ نافذ کرنے کی ضرورت سے بچا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read