گُملا: جھارکھنڈ کے گُملا ضلع میں جمعرات کی صبح قومی شاہراہ-23 پر پیش آئے ایک دردناک سڑک حادثے میں چار افراد کی جان چلی گئی، جبکہ دو دیگر شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں، جن کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔
یہ حادثہ بھرنو تھانہ علاقے کے تحت بھڑگاؤں کے قریب اُس وقت پیش آیا جب ایک ہائیوا گاڑی نے تیز رفتار میں پیچھے سے ایک پک اَپ وین کو زوردار ٹکر مار دی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ پک اَپ وین بری طرح تباہ ہو گئی۔ حادثے میں ٹاٹا میجک پک اَپ میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہوئے۔ حادثے کے بعد کچھ دیر تک سڑک پر افراتفری کا ماحول رہا۔
حادثے کے بعد ہائیوا کا ڈرائیور گاڑی سمیت فرار
اطلاعات کے مطابق، ٹاٹا میجک پک اَپ میں سوار تمام افراد رانچی سے گُملا کی طرف تلکٹ (تل سے بنی مٹھائی) فروخت کرنے جا رہے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے اور زخمی ہونے والے تمام افراد رانچی کے رہنے والے ہیں۔ عینی شاہدین اور پولیس کی ابتدائی جانچ میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہائیوا ڈرائیور نے تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑی چلاتے ہوئے پک اَپ کو پیچھے سے ٹکر ماری۔ حادثے کے بعد ہائیوا کا ڈرائیور گاڑی سمیت موقع سے فرار ہو گیا۔
پولیس فرار ڈرائیور کی تلاش میں مصروف
پولیس فرار گاڑی اور اس کے ڈرائیور کی تلاش میں مصروف ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھرنو تھانہ پولیس موقع پر پہنچی اور مقامی لوگوں کی مدد سے راحت اور بچاؤ کا کام شروع کیا۔
شدید زخمی دونوں افراد کو رانچی کیا گیا ریفر
شدید زخمی دونوں افراد کو پہلے سِسئی ریفرل اسپتال لے جایا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد ان کی نازک حالت کے پیش نظر انہیں رِمز، رانچی ریفر کر دیا گیا۔ پولیس نے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو تحویل میں لے کر صدر اسپتال، گُملا پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مہلوکین کی شناخت کی تصدیق کے لیے قریبی تھانوں اور رانچی پولیس سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

