Bharat Express DD Free Dish

Machado offers Peace Prize To Trump: مچادو کے نوبل امن انعام کو ٹرمپ کے نام کرنے کے فیصلے پر ہنگامہ،نوبل کمیٹی کا دو ٹوک بیان، کہا: انعام نہ منتقل ہو سکتا ہے نہ واپس لیا جا سکتا ہے

ڈونالڈ ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار خود کو نوبل امن انعام کا مضبوط دعوے دار قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے ابتدائی آٹھ مہینوں میں آٹھ جنگوں کو ختم کرنے کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر اس جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے جسے روکا گیا ہو۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر نوبل امن انعام کو لے کر خبروں میں ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا مچادو سے ملاقات کر کے یہ انعام اپنے نام کرنے پر بات کریں گے، عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی۔ اس معاملے پر اب ناروے کی نوبل امن کمیٹی نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ نوبل امن انعام نہ تو کسی دوسرے شخص کو منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایک بار دیے جانے کے بعد واپس لیا جا سکتا ہے۔نوبل امن کمیٹی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ماریا کورینا مچادو نے کہا تھا کہ وہ اپنا نوبیل امن انعام امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دینا چاہتی ہیں۔ کمیٹی نے صاف الفاظ میں کہا کہ نوبل انعام کے قوانین کے تحت کسی بھی صورت میں انعام کو منسوخ، تقسیم یا کسی اور کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ ایک بار جب انعام کا اعلان ہو جاتا ہے تو وہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے حتمی مانا جاتا ہے۔

دوسری جانب، ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ اگلے ہفتے امریکہ کے دورے پر آنے والی مچادو سے وہ نوبل امن انعام سے متعلق تجویز پر بات کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور ملک کے تیل کے ذخائر سے متعلق تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مچادو کا دورہ ایک اہم پیش رفت ہے اور ان کے خیال میں اس کے پیچھے ایک خاص وجہ ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ میں مقدمات چلانے کے لیے لائے جانے کے باوجود ماریا کورینا مچادو نے وینزویلا کا اعلیٰ ترین عہدہ سنبھالا نہیں ہے۔ ان کی جگہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے مادورو کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار خود کو نوبل امن انعام کا مضبوط دعوے دار قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے ابتدائی آٹھ مہینوں میں آٹھ جنگوں کو ختم کرنے کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر اس جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے جسے روکا گیا ہو۔ ٹرمپ کے اس مؤقف پر عالمی سطح پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں، جبکہ نوبل کمیٹی کے تازہ بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ نوبیل امن انعام کے معاملے میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read