افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے تقریباً پانچ برس بعد طالبان نے بھارت میں اپنی سفارتی موجودگی کو باضابطہ طور پر مضبوط کر لیا ہے۔ طالبان کے سینئر رکن مفتی نور احمد نور ہفتہ کے روز نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ اب وہ بھارت میں افغان سفارت خانے کی کمان سنبھالیں گے۔ حکام کے مطابق، نور احمد نور کو نئی دہلی میں واقع افغان سفارت خانے میں سی ڈی اے (Chargé d’Affaires) کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ ممبئی اور حیدرآباد میں قائم افغان قونصل خانے پہلے ہی طالبان کی جانب سے مقرر سفارت کاروں کے زیرِ انتظام ہیں۔ اب تک دہلی کے سفارت خانے کی ذمہ داری سابق صدر اشرف غنی کی حکومت کی جانب سے مقرر سید محمد ابراہیم خلیل کے پاس تھی۔
مفتی نور احمد نور کون ہیں؟ (Who Is Noor Ahmad Noor Taliban Leader)
نور احمد نور طالبان کے ایک بااثر اور سینئر رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ بھارت آنے سے قبل وہ افغانستان کی وزارتِ خارجہ میں ’فرسٹ پولیٹیکل ڈپارٹمنٹ‘ کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔ سفارتی حلقوں میں ان کی شناخت ایک ایسے رہنما کے طور پر ہے جن پر کابل کی موجودہ قیادت کو گہرا اعتماد حاصل ہے۔
بھارت سے پرانا رشتہ (Taliban India Relations)
نور احمد نور بھارت کے لیے کوئی نیا یا انجان چہرہ نہیں ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں جب افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سات روزہ دورے پر بھارت آئے تھے تو نور احمد نور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کا اہم حصہ تھے۔ اس دورے کے دوران نور نے متقی کے ساتھ سہارنپور میں واقع دیوبند کے دارالعلوم مدرسے کا بھی دورہ کیا تھا۔
جے شنکر سے ملاقات کے بعد نرمی
حالیہ مہینوں میں بھارت اور افغانستان کے تعلقات میں نمایاں نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، متقی کے دورۂ بھارت کے دوران بھارتی وزیرِ خارجہ ایس۔ جے شنکر کے ساتھ ایک مفاہمت ہوئی تھی، جس کے تحت نئی دہلی میں افغان سفارت خانے میں اسلامی امارت کی جانب سے مقرر سفارت کاروں کو قبول کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ نور کی تقرری کو اسی مفاہمت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارت خانے پر طالبان کا مکمل کنٹرول (Taliban in Delhi)
اپنے گزشتہ دورے کے دوران افغان وزیرِ خارجہ متقی نے سفارت خانے پر اپنا دعویٰ واضح طور پر پیش کیا تھا۔ انہوں نے اسلامی امارت کے پرچم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’یہ ہمارا پرچم ہے، ہم نے اسی کے تحت جہاد کیا ہے۔ یہ سفارت خانہ سو فیصد ہمارا ہے۔‘‘
بنگلہ دیش کے دورے سے بھی سرخیوں میں (Taliban Diplomat)
نور احمد نور کی سفارتی سرگرمیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دسمبر 2025 میں انہوں نے بنگلہ دیش کا بھی دورہ کیا تھا۔ وہاں کے انتخابات سے عین قبل ہونے والے اس دورے میں انہوں نے کئی اسلامی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، جسے خاصی اہمیت دی گئی۔
اگرچہ بھارت نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، تاہم وہ افغانستان کا ایک بڑا امدادی شراکت دار بنا ہوا ہے اور مسلسل انسانی امداد، گندم اور ادویات فراہم کر رہا ہے۔ نور احمد نور کی تقرری کو دونوں ممالک کے درمیان عملی اور حقیقت پسندانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



