Bharat Express DD Free Dish

Afghan Taliban

پولیس کے ترجمان محمد یوسف اسرار نے بتایا کہ یہ جان لیوا حادثہ پیر کی دوپہر ضلع سعید آباد میں پیش آیا۔ حادثے میں ایک ماں، اس کا بچہ اور دو دیگر خواتین سمیت چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ چار دیگر مسافر زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

طالبان حکام نے پاکستانی فوج پر افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سرحدی اضلاع پر توپخانے کی گولہ باری اور فضائی حملوں کی متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے صوبہ کنار تنازع کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں کابل کے خطرناک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ رچرڈ بینیٹ نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کابل اور اسلام آباد سے تحمل کی اپیل کی۔

پاکستان نے افغانستان کے کئی شہروں پرفضائی حملے کئے، جس کے بعد طالبان نے اسلام آباد ایئرپورٹ کونشانہ بنایا۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں پاکستانی فوج کوکافی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے معروف اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان نے شہر بھر میں سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

یو این اے ایم اے نے پاکستانی ایئر اسٹرائک کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ جائے وقوعہ پر حفاظتی اقدامات بڑھائے جائیں۔

مفتی نور احمد نور نے نئی دہلی میں افغان سفارت خانے کا چارج سنبھال لیا۔ جانیے کون ہیں نور احمد نور، جو وزیر خارجہ متقی کے ساتھ بھارت آئے تھے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان ایک آزاد اور مستحکم ملک ہے، جس کے پاس مضبوط سکیورٹی نظام اور مؤثر قیادت موجود ہے، اور وہ اپنے پورے علاقے پر مکمل خود مختاری رکھتا ہے۔