وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکامات پر ہونے والے اس آپریشن کو محض تیل کے مفادات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے وجوہات کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہیں۔ وینزویلا وہ ملک ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تیل میں نہاتا اور سونے پر بیٹھتا ہے اور یہی دولت عالمی طاقتوں کی نظریں اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کی خبر سامنے آتے ہی دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ روس اور چین نے امریکی اقدام پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے ایک خودمختار ملک کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ امریکی کارروائی کے فوراً بعد عالمی تیل منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ معاملہ صرف توانائی وسائل تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، لیکن یہ واحد وجہ نہیں جس نے امریکہ کو اس قدر جارحانہ قدم اٹھانے پر آمادہ کیا۔ وینزویلا قدرتی وسائل کے اعتبار سے بے حد مالا مال ملک ہے اور اس کے زیرِ زمین دولت کے خزانے عالمی طاقتوں کے لیے انتہائی پرکشش ہیں۔ تیل کے علاوہ سونا، قیمتی دھاتیں اور نایاب معدنیات بھی وینزویلا کو اسٹریٹجک لحاظ سے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا کے جنوبی علاقوں میں واقع جنگلاتی میدانوں اور پہاڑی خطوں میں سونے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر وینزویلا کے شمال مشرقی ساحل پر واقع گویانا شیلڈ میں قدیم چٹانی ساختیں موجود ہیں، جہاں قدرتی طور پر سونے کی موٹی رگیں پائی جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں پائے جانے والے کوارٹز کی تہوں میں موجود سونا اپنی غیر معمولی خالصیت کے لیے جانا جاتا ہے، جس میں بعض مقامات پر 95 فیصد تک خالص سونا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
گویانا شیلڈ کے خطے میں سونے کی 200 سے زائد کانیں موجود بتائی جاتی ہیں، جن میں مجموعی طور پر 8 ہزار ٹن سے زیادہ سونے کے ذخائر ہونے کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ وینزویلا کے بولیور ریاست میں ہی دس سے زیادہ بڑی کانیں واقع ہیں، جہاں ہزاروں ٹن سونا موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی کارروائی میں سونے کے ذخائر بھی ایک اہم عنصر ہو سکتے ہیں۔
تیل کی بات کی جائے تو وینزویلا کے پاس تقریباً 303 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر ہیں، جن کی موجودہ عالمی قیمت کھربوں ڈالر میں بتائی جاتی ہے۔ اورینوکو بیلٹ میں پھیلے وسیع علاقے میں بھی تیل کے ایسے ذخائر موجود ہیں جنہیں دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس خطے میں اتنا تیل ہے کہ دنیا کے مجموعی ذخائر اس میں سمٹ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وینزویلا میں ٹِن، ٹنگسٹن، ٹینٹالم اور ریئر ارتھ منرلز کے بھی وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ریئر ارتھ منرلز پر فی الحال چین کی اجارہ داری سمجھی جاتی ہے اور اگر امریکہ ان وسائل تک رسائی حاصل کر لیتا ہے تو یہ چین کی عالمی برتری کو بڑا دھچکا پہنچا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی معدنی دولت وینزویلا کو عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنا رہی ہے، جہاں تیل کے ساتھ ساتھ زمین کے اندر چھپی بے پناہ دولت بھی بڑے فیصلوں کی بنیاد بن رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


