نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ۔
کٹھمنڈو: نیپال میں آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی دوران نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی (آر ایس پی) نے ایک بڑا سیاسی قدم اٹھاتے ہوئے کٹھمنڈو میٹروپولیٹن سٹی کے میئر بالین شاہ کو ملک کے اگلے وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بالین شاہ اور ربی لمچھانے کے درمیان اتفاق رائے
آر ایس پی کے صدر ربی لمچھانے اور میئر بالین شاہ نیپالی سیاست میں پہلے ہی نمایاں اور بحث کا مرکز رہنے والی شخصیات ہیں۔ اتوار کی صبح دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل مشاورت کے بعد وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر بالین شاہ کے نام پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے بعد دونوں فریقین نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ آر ایس پی کے پلیٹ فارم کے تحت ذمہ داریوں اور اختیارات کی واضح تقسیم کی جائے گی۔
سات نکاتی معاہدہ، کردار واضح
دونوں رہنماؤں کے درمیان سات نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا ہے، جس کے مطابق ربی لمچھانے پارٹی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے، جبکہ بالین شاہ پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ہوں گے اور ایوان نمائندگان کے انتخابات کے بعد آر ایس پی کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار نامزد کیے جائیں گے۔
5 مارچ 2026 کو عام انتخابات
نیپال میں عام انتخابات 5 مارچ 2026 کو ہونے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں آر ایس پی قیادت پرانی سیاسی جماعتوں کے مقابلے کے لیے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔ نیپال کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں شاذ و نادر ہی کوئی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر پائی ہے، اس لیے آنے والی حکومت کے لیے استحکام سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
کون ہیں بالین شاہ؟
بالین شاہ کو ایک کم گو مگر مضبوط نظریات رکھنے والا لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ وہ میڈیا سے زیادہ فاصلے پر رہتے ہیں اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کھلے عام پرانی سیاسی جماعتوں کے کرپٹ نظام پر تنقید کی ہے، جس کے باعث وہ خاص طور پر نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں۔ پیشہ کے اعتبار سے بالین شاہ ایک آرکیٹیکٹ ہیں اور ماضی میں ریپر بھی رہ چکے ہیں۔ رواں سال ستمبر کے آغاز میں جنریشن زی (Gen-Z) تحریک کے بعد وزیراعظم سوشیلا کارکی کی قیادت میں موجودہ حکومت کی تشکیل میں انہیں کنگ میکر کے طور پر بھی دیکھا گیا تھا۔
ربی لمچھانے کا سیاسی سفر
دوسری جانب ربی لمچھانے پہلے ہی میڈیا کے ذریعے ایک معروف چہرہ تھے اور نوجوان طبقے میں ان کی خاص مقبولیت ہے۔ سیاست میں آنے کے بعد ان پر کرپشن کے الزامات بھی لگے، جس کے نتیجے میں انہیں جیل جانا پڑا۔ تاہم حال ہی میں عدالت کے حکم پر انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ انتخابات سے قبل اپنی جماعت کو مضبوط بنانے اور نئی سیاسی قوتوں کو یکجا کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔
سیاسی ماہرین کی رائے
سیاسی تجزیہ نگار ارون سوبیدی کے مطابق، اگر بالین شاہ اور ربی لمچھانے آنے والے انتخابات میں متحد ہو کر میدان میں اترتے ہیں تو وہ ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ ان کے بقول، اس اتحاد سے نیپال کی سیاست میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے اور روایتی جماعتوں کی اجارہ داری کمزور پڑ سکتی ہے۔
پارٹی شناخت اور تنظیمی ڈھانچہ
معاہدے کے تحت پارٹی آر ایس پی کے نام سے ہی کام کرتی رہے گی۔ پارٹی کا پرچم نیلے پس منظر پر سفید دائرے اور اس میں نیلی گھنٹی کے نشان پر مشتمل ہوگا۔ گھنٹی ہی پارٹی کا انتخابی نشان ہوگی، جبکہ پارٹی کا مرکزی دفتر کٹھمنڈو وادی میں قائم رہے گا۔ اس کے علاوہ پارٹی کے اندر ذمہ داریاں نوجوان کارکنان اور تجربہ کار ماہرین کو اہلیت، تعلیم اور عوامی شبیہ کی بنیاد پر دی جائیں گی۔ پارٹی سے متعلق تمام دستاویزات الیکشن کمیشن میں باقاعدہ طور پر اپ ڈیٹ کی جائیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



