Urdu Conclave 2026

Mass shooting at Bondi Beach leaves ten dead: سڈنی کے بونڈی بیچ پر فائرنگ، حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک، ہنوکا کے موقع پر خونی واقعہ، آسٹریلیا اور دنیا بھر میں مذمت

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’پولیس اور ایمرجنسی سروسز موقع پر موجود ہیں اور جانیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق یہ حملہ اتوار کی شام پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی آپریشن جاری ہے اور عوام کو بیچ اور اطراف کے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

واقعے کے بعد سکیورٹی الرٹ

پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی کارروائی شروع کر دی گئی اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے موقع پر موجود افراد کو محفوظ پناہ لینے کی اپیل کی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم جاری ہے۔

عینی شاہدین کی  گواہی

سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق متعدد افراد کو گولیاں لگیں۔ ایک مقامی عینی شاہد نے بتایا ’’میں نے کم از کم دس لوگوں کو زمین پر پڑے دیکھا، ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔‘‘ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بیچ پر موجود لوگوں کو گولیوں کی آواز سن کر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

یہودی تہوار کے دوران حملہ

اطلاعات کے مطابق یہ فائرنگ یہودی تہوار ہانوکا کے پہلے دن کے موقع پر ہوئی، جب بڑی تعداد میں یہودی خاندان ’چانوکا بائے دی سی‘ تقریب میں شریک تھے۔ آسٹریلین جیوریز کی نمائندہ تنظیم کے ایک عہدیدار نے کہا کہ یہ واقعہ ایک تہوار کے دوران پیش آیا، جس نے پوری برادری کو صدمے میں ڈال دیا ہے۔

وزیر اعظم انتھونی البانیز کا ردعمل

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’پولیس اور ایمرجنسی سروسز موقع پر موجود ہیں اور جانیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا اظہار تعزیت

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’آسٹریلیا سے آنے والی خبریں نہایت تکلیف دہ ہیں۔ برطانیہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی قیادت کی شدید مذمت

اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے اس حملے کو یہودیوں پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بڑھتی ہوئی یہود مخالف نفرت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا ’’سڈنی میں ہمارے بہن بھائیوں پر حملہ کیا گیا، جو ہنوکا کی پہلی شمع روشن کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔‘‘ انہوں نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہود مخالف جذبات کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

عالمی رہنماؤں کا ردعمل

امریکی سفیر مائیک ہکابی نے واقعے کو ’’خوفناک‘‘ قرار دیا، جبکہ نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ وہ بونڈی بیچ پر پیش آنے والے مناظر دیکھ کر شدید صدمے میں ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ اور اپوزیشن لیڈر نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی سطح پر یہودی برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔

اینٹی سیمیٹزم پر تشویش میں اضافہ

عالمی رہنماؤں نے اس حملے کو دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی یہود مخالف کارروائیوں سے جوڑا ہے۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یہ تشدد اچانک نہیں ہوا بلکہ نفرت کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا ’’صرف تعزیتی بیانات کافی نہیں، یہودیوں کو کہیں بھی اپنی جان کے خوف میں نہیں جینا چاہیے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read