کانگریس کی سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری کے بیان نے ملک کی سیاست میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ فوج پر حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کے الزام نے نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ بی جے پی نے اس بیان کو فوج کے وقار پر حملہ قرار دیتے ہوئے کانگریس کی سوچ کو ’’فوج مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔
رینوکا چودھری نے منگل 2 دسمبر کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر شدید دکھ ہوتا ہے کہ فوج کے سینئر افسران عوام کے درمیان آ کر حکومت کے حق میں بیانات دینے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’سب سے خطرناک صورتحال یہ ہے کہ فوجی اہلکار میڈیا کے سامنے آ کر مجبور ہو کر ایسے بیانات دیتے ہیں، گویا ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہو‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’فوج کو سیاست میں گھسیٹنا نہایت خطرناک عمل ہے اور یہ ملک کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے‘‘۔
رینوکا چودھری کے اس بیان کے بعد بی جے پی نے کانگریس پر شدید حملہ کیا۔ بی جے پی کے ترجمان سی آر کیسون نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈر راہل گاندھی برسوں سے فوج کی توہین کرتے آئے ہیں اور یہ بیان اسی ذہنیت کی تازہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی کانگریس قیادت نے فوجی سربراہ کو ‘سڑک کا غنڈہ’ کہہ کر ملک کی افواج کی توہین کی تھی۔‘‘ کیسون نے الزام لگایا کہ کانگریس ہر موقع پر فوج کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ بی جے پی حکومت ہمیشہ فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔
واضح رہے کہ کانگریس لیڈر اس سے قبل بھی تنازع کا حصہ بن چکی ہیں، جب پارلیمنٹ کے پہلے دن وہ ایک پالتو کتے کو ساتھ لے کر پہنچیں، جس کے بعد تنقید کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’اگر میں کتا لے آئی تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟ اصل مسئلہ وہ جانور ہیں جو کاٹتے اور ڈستے ہیں اور وہ تو پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہیں‘‘۔ اس بیان نے بھی سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا تھا۔ فی الحال، فوج اور سیاست سے متعلق بیانات کے اس تنازع نے قومی سیاست کا درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے اور دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ کس رخ پر جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



