بہار اسمبلی انتخابات میں مہاگٹھ بندھن کی کراری شکست کے بعد لالو خاندان میں علانیہ اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے اچانک سیاست اور خاندان دونوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان کا الزام ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے تیجسوی یادو کے قریبی مشیر سنجے یادو اور رمیز کا ہاتھ ہے۔ روہنی کے اس انکشاف کے بعد ان کے بھائی تیج پرتاب یادو بھی میدان میں آگئے ہیں۔
تیج پرتاب کی سخت وارننگ
تیج پرتاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والی بے عزتی کو برداشت کر لیا، مگر بہن کی توہین کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ سوشل میڈیا پر سخت لہجے میں لکھا کہ ’’سن لو جے چندو، اگر خاندان پر وار کرو گے تو بہار کی عوام تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ روہنی کے چپل اٹھانے کے واقعے نے انہیں اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور کچھ لوگ تیجسوی کی سمجھ پر پردہ ڈال رہے ہیں۔
لالو پرساد یادو کو پیغام
تیج پرتاب نے اپنے والد اور آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’’پتا جی، بس ایک اشارہ کر دیجیے، بہار کی عوام ان جے چندوں کو سبق سکھا دے گی۔‘‘ انہوں نے کہا یہ لڑائی کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ خاندان کی عزت، بیٹی کی حرمت اور بہار کے وقار کی جنگ ہے۔
روہنی آچاریہ کا اعلان
اس سے قبل روہنی آچاریہ نے دیر شب سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ وہ سیاست اور خاندان دونوں سے الگ ہو رہی ہیں۔ روہنی نے اپنے جذباتی پوسٹ میں لکھا: ’’اکل ایک بیٹی، ایک بہن، ایک شادی شدہ عورت، ایک ماں کی تذلیل کی گئی، غلیظ گالیاں دی گئیں، مارنے کے لیے چپل اٹھایا گیا۔ میں نے اپنی عزت نفس سے سمجھوتہ نہیں کیا، سچائی کو کسی کے حوالے نہیں کیا اور صرف اسی وجہ سے مجھے ذلت برداشت کرنی پڑی۔ گزشتہ روز ایک بیٹی اپنے روتے ماں-باپ بہنوں کو چھوڑآئی۔ مجھ سے میرا مائیکا چھڑوایا گیا… مجھے یتیم کر دیا گیا…. آپ سب میرے راستے پر کبھی نہ چلیں۔ کسی گھر میں روہنی جیسی بیٹی – بہن پیدانہ ہو۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ سنجے یادو اور رمیز نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا اور وہ تمام الزام اپنے اوپر لے رہی ہیں۔ روہنی نے رابڑی دیوی کی رہائش بھی چھوڑ دی اور میڈیا سے گفتگو میں کہا: ’’میرا کوئی خاندان نہیں ہے، انہوں نے ہی مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

