پاکستان کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو جوابدہ ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے، جس نے 1971 میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا، جس کے دوران اس کی اپنی فوج نے 400,000 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بھارت نے دہشت گردی کے معاملے پر بھی پاکستان کو گھیرا۔ بھارت کی مستقل نمائندہ پروتھنی ہریش نے جموں و کشمیر کے مسئلہ پر ملک کا موقف پیش کیا۔
پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے خلاف بیان بازی کررہا تھا اور اس نے بے شمار جھوٹ بولئے۔ اس دوران بھارتی نمائندے ہریش نے پاکستان کو آئینہ دکھایا۔ پاکستان نے کہا تھا کہ کشمیری خواتین کو کئی دہائیوں سے جنسی تشدد کا سامنا کررہی ہیں۔ اس کے جواب میں
ہریش نے کہا، “بدقسمتی سے ہم ہر سال اپنے ملک کے خلاف گمراہ کن بیان بازی سننے پر مجبور ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر پر، جو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔”
PR @AmbHarishP delivered India’s statement at the UNSC Open Debate on Women Peace and Security marking 25 years of Resolution 1325.
Quoting EAM @DrSJaishankar, he described women peacekeepers as “messengers of peace” and outlined India’s rich and pioneering… pic.twitter.com/SesXRFRJbU
— India at UN, NY (@IndiaUNNewYork) October 6, 2025
آپریشن سرچ لائٹ پر بھارت نے کیا کہا؟
ہریش نے پاکستان کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا، “ایک ایسا ملک جو اپنے ہی لوگوں پر بمباری کرتا ہے اور منظم طریقے سے نسل کشی کرتا ہے وہ دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے صرف جھوٹی بیان بازی کرتا ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے، جس نے 1971 میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا اور
اپنی ہی فوج کو 400,000 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی ۔”
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بارپھر ان چیزوں پر لگایا 25 فیصد ٹیرف، جانئے کب ہوگا کہ نافذ
اقوام متحدہ میں پاکستان کی کئی بار تذلیل ہوئی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں، جب بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو بے نقاب کیا۔ پاکستان پہلے بھی ذلیل ہو چکا ہے۔ بھارت نے دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کے کالے کارناموں کو بھی دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



