Bharat Express DD Free Dish

Bharat Literature Festival: قیادت ڈر سے نہیں آتی، ہمیں اپنی جڑوں کی طرف لوٹنا ہوگا — بھارت لٹریچر فیسٹیول میں سی ایم ڈی اپیندر رائے کا خطاب

اپیندر رائے نے بیرونِ ملک بسے بھارتیوں کی قیادت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا: سندر پچائی یا ستیا نڈیلا نے کبھی بھارت کی بات نہیں کی۔ کیونکہ وہ خود کو بھارتی مانتے ہی نہیں۔ بھارت کی بات وہی کرے گا، جو دل سے بھارتی ہو۔

نئی دہلی :بھارت ایکسپریس کے چیئرمین و مینیجنگ ڈائریکٹر اور سینئر صحافی اپیندر رائے نے دہلی کے امبیڈکر آڈیٹوریم میں منعقد بھارت لٹریچر فیسٹیول میں قیادت پر ایک جامع اور بصیرت افروز خطاب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیادت محض طاقت یا وراثت سے نہیں آتی، بلکہ یہ ذمہ داری، قربانی، جڑوں سے جڑاؤ اور انصاف پسندی سے پیدا ہوتی ہے۔
قیادت کی اصل بنیاد: قربانی، رفتار، اور جڑوں سے رشتہ
اپیندر رائے نے کہا کہ دنیا میں جتنے عظیم لیڈرز گزرے، ان میں ایک خاص وصف رہا — قیادت کا بوجھ اٹھانے کی اہلیت۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ: وقت کی رفتار بدل چکی ہے۔ جو ترقی انسان نے 3 لاکھ سال میں کی، آج وہ 30 دن میں ہو سکتی ہے۔ ایسے میں قیادت صرف فیصلے کا نام نہیں، بلکہ فیصلہ سازی کی رفتار اور اس پر عمل درآمد کا نام ہے۔
لیڈرشپ کی کہانی: راجہ بھرت سے لے کر شير شاہ سوری تک
CMD Upendra Rai at Bharat Literature Festival

انہوں نے قدیم ہندوستان کے راجہ بھرت کی کہانی سنائی، جنہوں نے اپنے نکمہ بیٹوں کو گدی کے لائق نہ پا کر منو پتر کو راج گدی سونپ دیا، حالانکہ وہ ان کا بیٹا نہیں تھا۔
اسی طرح شیر شاہ سوری کی مثال دیتے ہوئے کہا:”ایک عورت کے ساتھ لوٹ مار پر کوتووال کے ہاتھ کٹوا دیے۔ اس ایک سزا نے 5 سال تک پورے علاقے میں امن قائم رکھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام میں انصاف اور سزا کا خوف ہونا ضروری ہے۔
“قیادت کا مطلب قربانی ہے، ڈر نہیں”
انہوں نے اکبر اور دو راجپوت بھائیوں کی ایک جذباتی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ:“قیادت وہ ہے جو خود کو قربان کرنے کو تیار ہو۔ لیڈر وہ نہیں جو ڈرتا ہے، بلکہ وہ ہے جو ڈر سے آگے بڑھتا ہے۔
اسپریچوئل لیڈرشپ اور عورتوں کا مقام
CMD Upendra Rai at Bharat Literature Festival

اپیندر رائے نے اسپریچوئل لیڈرشپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ روحانی قیادت نے عورتوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا، حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب سے عورتوں نے ہی اتارا، جن میں ایک ان کی ماں، بہن اور ایک طوائف تھی۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ: ہمارے معاشرے میں عورتوں کو وہ مقام نہیں ملا جس کی وہ مستحق تھیں۔ حالانکہ صبر، تخلیق اور ایثار جیسے اوصاف عورتوں میں مردوں سے زیادہ ہیں۔
بھارت کی موجودہ حالت: دماغی غلامی اور کمزور تجارتی قیادت
اپیندر رائے نے ملک میں ریسرچ، انوویشن اور لیڈرشپ کی کمی پر شدید تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا:“آج اگر گوگل بند ہو جائے، تو ہمارا سسٹم بیٹھ جائے گا۔ ہم نے نہ ریسرچ پر پیسہ لگایا، نہ خود پر بھروسہ کیا۔ اور ہمارے بہترین دماغ امریکہ جا رہے ہیں، کیونکہ یہاں ماحول نہیں۔
کیا ہمیں اپنی جڑوں کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے؟
CMD Upendra Rai at Bharat Literature Festival

انہوں نے کہا: ہمیں اپنے کوڈنگ نالج، روحانی ورثے اور ثقافتی سرمائے کو واپس لانا ہوگا۔ دنیا مانتی ہے کہ بھارت نے 5000 سال پہلے بھی کائنات کو سمجھا۔ آج ہم نے خود ہی وہ سب بھلا دیا ہے۔
آچاریہ رجنیش (اوشو) کا ذکر
انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگ آچاریہ رجنیش کا نام لینے سے کتراتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:“20ویں صدی میں جتنا اوشو نے کیا، کسی نے نہیں کیا۔ وہ کتابوں کی شیلف پر نہیں، اندر کے کمروں میں موجود ہیں — جسے لوگ چھپاتے ہیں۔”
لیڈرشپ کی بنیاد: جو خود کو “بھارتی” مانے
اپیندر رائے نے بیرونِ ملک بسے بھارتیوں کی قیادت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا: سندر پچائی یا ستیا نڈیلا نے کبھی بھارت کی بات نہیں کی۔ کیونکہ وہ خود کو بھارتی مانتے ہی نہیں۔ بھارت کی بات وہی کرے گا، جو دل سے بھارتی ہو۔
عورتوں نے بہترین AI ماڈل بنائے
انہوں نے کہا کہ آنے والا وقت AI کا ہے، اور اس میں بھی سب سے بہترین ماڈلز خواتین نے بنائے ہیں۔”تخلیق، صبر اور گہرائی — عورتوں کے اندر ہے۔ اسی لیے میں آج کے بھارت لٹریچر فیسٹیول میں عورتوں کو سلام کرتا ہوں۔”
آنے والا وقت: نیا یوگ، نئی قیادت
اپنے خطاب کے اختتام پر اپیندر رائے نے کہا:“ہم ایک نئے عہد کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ ہمیں اپنی قدرت سے جڑنا ہوگا، اپنی تہذیب کو پہچاننا ہوگا، اور نئی نسل کو ایسا ماحول دینا ہوگا جہاں تخلیق پنپ سکے۔”
جو قوم اپنے ماضی کو نہیں جانتی، وہ مستقبل نہیں بنا سکتی۔ قیادت وہی کرے گا، جو خود کو پہچانے گا — اور جو اپنے ملک سے جڑنے کو تیار ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read