17 ستمبر کو شروع ہونے والے سوستھ ناری، سشکت پریوار ابھیان کے تحت 20 ستمبر تک پورے ملک میں 2.83 لاکھ سے زائد ہیلتھ کیمپس منعقد کیے جا چکے ہیں۔ ان کیمپس کا مقصد مختلف غیر متعدی بیماریوں جیسے کینسر، خون کی کمی (انیمیا)، تپ دق (ٹی بی) اور سِکل سیل بیماری کی جانچ کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کی مشاورت فراہم کرنا ہے۔
وزارت صحت و خاندانی بہبود کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان کیمپس میں اب تک مجموعی طور پر 76 لاکھ سے زائد شہریوں نے شرکت کی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کی جانچ کے لیے 37 لاکھ سے زائد افراد کو چیک کیا گیا۔ذیابیطس کے لیے 35 لاکھ شہریوں کی جانچ کی گئی۔9 لاکھ سے زائد خواتین کی چھاتی کے کینسر کے لیے اسکریننگ کی گئی۔4.7 لاکھ خواتین کی سروائیکل کینسر کے لیے جانچ ہوئی۔16 لاکھ سے زائد افراد کا منہ کے کینسر کی جانچ کی گئی۔
اس کے علاوہ
18 لاکھ سے زائد قبل از پیدائش معائنے (Antenatal Check-ups) کیے گئے۔51 لاکھ سے زائد بچوں کو زندگی بچانے والی ویکسینز دی گئیں۔15 لاکھ سے زائد افراد کا خون کی کمی (انیمیا) کے لیے ٹیسٹ ہوا۔22 لاکھ سے زائد افراد کی ٹی بی کے لیے اسکریننگ کی گئی۔2.3 لاکھ افراد کی سِکل سیل بیماری کے لیے جانچ کی گئی۔1.6 لاکھ سے زائد افراد نے خون عطیہ کرنے کے لیے رجسٹریشن کروایا۔4.7 لاکھ نئے “آیوشمان بھارت / پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (PM-JAY)” کارڈز جاری کیے گئے۔
ان بڑے پیمانے پر کیمپس میں نیشنل ہیلتھ مشن (NHM)، آیوشمان آروگیہ مندر، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS)، دیگر قومی اہمیت کے ادارے (INIs)، تیسرے درجے کے ہسپتال، میڈیکل کالجز اور نجی ادارے بھی شامل ہوئے۔
بیان کے مطابق، ان اداروں نے 3,410 خصوصی صحت کیمپس کا انعقاد کیا جس سے 5.8 لاکھ سے زائد شہریوں کو فائدہ پہنچا۔ ان کیمپس میں جدید اسکریننگ، تشخیص، مشاورت اور علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں، جو ریاستی حکومتوں اور مقامی سطح پر صحت کے کارکنان کی کوششوں میں معاون ثابت ہوئیں۔
بھارت ایکسریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
