وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوراتری کے پہلے دن سے ہی ’’نیکسٹ جنریشن جی ایس ٹی ریفارمز‘‘ نافذ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جی ایس ٹی بچت اتسو‘‘ کے ذریعہ ہر طبقے کو فائدہ ہوگا، چاہے وہ غریب ہو یا کسان، دکاندار، نوجوان یا خواتین۔ مودی نے کہا کہ اس اصلاح سے ہر گھر کی خوشیاں بڑھیں گی اور تہواروں کا لطف مزید ہوگا۔
My address to the nation. https://t.co/OmgbHSmhsi
— Narendra Modi (@narendramodi) September 21, 2025
’ون نیشن-ون ٹیکس‘ کی تعبیر
وزیر اعظم نے کہا کہ 2017 میں جب ملک نے جی ایس ٹی کو اپنایا تو درجنوں الگ الگ ٹیکسوں کے جال سے نجات ملی۔ پہلے ایک ہی مال کو ایک شہر سے دوسرے شہر بھیجنے میں کئی ٹیکس اور چیک پوسٹ کی رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پورے ملک میں یکساں نظام نافذ ہو گیا ہے اور ’’ون نیشن، ون ٹیکس‘‘ کا خواب پورا ہوا ہے۔
نئی اصلاحات اور رعایتی شرحیں
وزیراعظم کے مطابق اب صرف دو ہی ٹیکس سلیب رہیں گے— 5 فیصد اور 18 فیصد۔ روز مرہ کی ضروری اشیاء جیسے کھانے پینے کا سامان، دوائیاں، برش، پیسٹ اور بیمہ پر یا تو صفر فیصد یا پھر پانچ فیصد ٹیکس لگے گا۔ پہلے 12 فیصد کے دائرے میں آنے والی 99 فیصد اشیاء اب پانچ فیصد کے زمرے میں چلی گئی ہیں۔ مودی نے کہا کہ یہ تبدیلیاں براہِ راست عوام کو راحت پہنچائیں گی اور چھوٹے تاجروں کو خاص فائدہ ہوگا۔
اصلاحات کا معاشی اثر
وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ اصلاحات بھارت کی ترقی کو نئی رفتار دیں گی، سرمایہ کاری کو مزید پرکشش بنائیں گی اور ہر ریاست کو ترقی کی دوڑ میں برابر کا شریک بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بیرونی انحصار سے آزاد ہونا ہوگا، کیونکہ ’’140 کروڑ ہندوستانیوں کا مستقبل کسی اور کے ہاتھوں میں نہیں دیا جا سکتا۔‘‘
اپوزیشن کی تنقید اور مودی کا جواب
خطاب سے قبل کانگریس نے حکومت پر کئی سوالات اٹھائے، جن میں بھارت-امریکہ تعلقات، H-1B ویزا ہولڈرز اور کسانوں و مزدوروں کی حالت شامل تھی۔ مودی نے ان کا براہِ راست جواب نہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو اتحاد اور خود انحصاری کے راستے پر بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تہواروں کے دوران زیادہ سے زیادہ دیسی مصنوعات خریدیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



