بنگلور– کرناٹک حکومت نے 2023 کے اسمبلی انتخابات کے دوران ضلع کلبرگی کے الند حلقہ اسمبلی میں ووٹر لسٹ سے ہزاروں نام مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حذف کیے جانے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دے دی ہے۔یہ اقدام کانگریس رہنما راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے ،جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے گئے، اور چیف الیکشن کمشنر “ووٹ چوروں” کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
شکایت کس نے کی؟
اس معاملے کی شکایت الند کے رکن اسمبلی بی آر پاٹل نے کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حلقے کے 256 پولنگ بوتھوں پر تقریباً 6,670 ووٹروں کے نام غیر قانونی طور پر حذف کیے گئے۔ ابتدائی جانچ میں انکشاف ہوا کہ 6,018 ناموں کو حذف کرنے کے لیے درخواستیں دی گئیں، جن میں سے صرف 24 درخواستیں ہی درست پائی گئیں، جب کہ باقی 5,994 درخواستیں مختلف موبائل نمبرز سے، ووٹروں کی لاعلمی میں اور بدنیتی پر مبنی انداز میں جمع کروائی گئیں۔
تحقیقات کون کرے گا؟
حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی سربراہی محکمہ سی آئی ڈی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ADGP) کو سونپی گئی ہے، جب کہ ٹیم میں دو پولیس سپرنٹنڈنٹ سطح کے افسران، سعیدولو اداوتھ اور شبھمویتا کو شامل کیا گیا ہے۔حکومت نے ایس آئی ٹی کو بھارتی شہری سلامتی ضابطہ، 2023 کی دفعہ 2(U) کے تحت تھانہ جیسے اختیارات تفویض کیے ہیں تاکہ وہ ریاست بھر میں ایسے معاملات کی تحقیقات کر سکے۔
رپورٹ کہاں پیش ہوگی؟
ایس آئی ٹی اپنی رپورٹ مجاز عدالتوں اور ریاستی حکومت کو پیش کرے گی۔ توقع ہے کہ اس تحقیقات سے واضح ہو جائے گا کہ آیا انتخابی عمل میں کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے، اور اگر ہوئی ہے تو اس کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔ماہرین اس اقدام کو انتخابی شفافیت اور ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں ایس آئی ٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
