نئی دہلی : کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی آج صبح 10 بجے دہلی کے اندرا بھون آڈیٹوریم میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ سیاسی حلقوں میں اس پریس کانفرنس کو لے کر خاصی ہلچل پائی جا رہی ہے، کیونکہ قیاس آرائیاں ہیں کہ راہل گاندھی ووٹ چوری کے معاملے پر ایک بڑا انکشاف کر سکتے ہیں، جسے وہ پہلے “ہائیڈروجن بم” سے تعبیر کر چکے ہیں۔
کیا ہے پس منظر؟
واضح رہے کہ یکم ستمبر کو پٹنہ میں اپنی ووٹر ادھیکار یاترا کے اختتامی جلسے میں راہل گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ اب ان کی پارٹی ووٹ چوری کے خلاف “ہائیڈروجن بم” پھوڑے گی۔ اس سے قبل انہوں نے اسی معاملے کو “ایٹم بم” کہا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس انکشاف کے بعد پی ایم نریندر مودی عوام کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔
راہل گاندھی کا مؤقف
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ووٹ چوری محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ یہ عوام کے حقوق، ریزرویشن، روزگار، تعلیم اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ یہ سب کچھ صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر آئین کی خلاف ورزی اور اس کی “قتل” کی کوشش کا بھی الزام لگایا ہے۔
پریس کانفرنس کی تفصیل
کانگریس کے میڈیا سربراہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ راہل گاندھی جمعرات کی صبح 10 بجے پریس کانفرنس کریں گے۔ یاد رہے کہ راہل گاندھی کی پچھلی پریس کانفرنس 7 اگست کو ہوئی تھی، جس میں انہوں نے کرناٹک کی ایک لوک سبھا نشست کے ڈیٹا کی بنیاد پر الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر ووٹ چوری کا الزام لگایا تھا۔
پی ایم مودی کو خط
اس دوران راہل گاندھی نے بدھ کے روزپی ایم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے پنجاب میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرہ افراد کے لیے ریلیف پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔ امکان ہے کہ وہ آج کی پریس کانفرنس میں ووٹ چوری کے ساتھ ساتھ سیلاب سے متعلق امور پر بھی بات کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



