شبھم دیویدی کی اہلیہ ایشانیا۔
کانپور: پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد اتوار کے روز بھارت اور پاکستان پہلی بار کرکٹ کے میدان میں آمنے سامنے ہوں گے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے میں کانپور کے شبھم دیویدی اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس حملے کے بعد اس میچ کا مخالف ہے۔ شبھم دیویدی کی اہلیہ ایشانیا بھی اس مقابلے کے خلاف ہیں۔
ایشانیا نے آئی اے این ایس سے کہا، ’یہ ہمارا احتجاج نہیں ہے۔ یہ احتجاج ان 26 خاندانوں کا ہے جن کے اپنے لوگ شہید ہوئے ہیں۔ یہ احتجاج ہر اس گھر کا ہے جہاں سے سپاہی شہید ہوئے۔ اس کا احتجاج ہر گھر سے ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’میں سوشل میڈیا پر مسلسل اس کے خلاف پوسٹ کر رہی ہوں۔ ابھی تک میرے پاس ایک بھی ایسا شخص نہیں آیا جس نے کہا ہو کہ آپ غلط کہہ رہی ہیں۔ ہر ایک شخص میرے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ لوگ بھی اس مقابلے کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔‘‘
ایشانیا دیویدی نے کہا، ’’اگر ایک عام شہری کو یہ بات سمجھ آ رہی ہے تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ بی سی سی آئی اور ان کھلاڑیوں کو یہ بات کیوں نہیں سمجھ آ رہی۔ وہ بھول چکے ہیں کہ اسی پاکستان کے دہشت گردوں نے ان کے ملک کے لوگوں کو مارا ہے۔ اسی پاکستان سے لڑتے ہوئے ہمارے کتنے جوان شہید ہو گئے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ان کھلاڑیوں کو زبردستی کوئی نہیں بھیج رہا ہے۔ کھلاڑی اپنی مرضی سے گئے ہیں، انہیں خود موقف لینا چاہیے تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ بھارتی کھلاڑی اور بی سی سی آئی دہشت گردی کو قومی مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔ کانپور سے کلدیپ یادو بھی میچ کھیلنے گئے ہیں، لیکن وہ کھیلنے سے انکار بھی کر سکتے تھے۔‘‘
شبھم کے والد سنجے دیویدی نے کہا، ’’جب سے مجھے بھارت-پاکستان کے درمیان مقابلے کی خبر ملی، تبھی سے میں اس کا مخالف ہوں۔ جس ملک نے ہمارے ملک کے معصوم شہریوں کا قتل کروایا، اس کے ساتھ ہمارے کھلاڑی کھیل رہے ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس میچ کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔ بی سی سی آئی کو ملک کے شہریوں کی فکر نہیں ہے۔ دشمن ملک کے ساتھ بورڈ کو کسی بھی طرح کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

