Bharat Express DD Free Dish

دہشت گردی کے الزام میں دو برس سے قید محمد کامل کے معاملے میں سپریم کورٹ نے کی لکھنؤ ہائی کورٹ کو جلد سماعت کی ہدایت، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کر رہی ہے پیروی

جمعیۃ علماء مہاراشٹر (قانونی امداد کمیٹی) کی جانب سے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر اس معاملے کی پیروی کی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے دہشت گردی کے الزامات میں دو سال سے قید محمد کامل کی ڈیفالٹ ضمانت کی عرضی پر سماعت کے سلسلے میں اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے لکھنؤ ہائی کورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ عرضی پر میرٹ کی بنیاد پر جلد از جلد سماعت کرے اور تین ماہ کے اندر فیصلہ صادر کرے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی تفصیلی بحث سننے کے بعد سنایا۔ عدالت نے کہا کہ عرضی دائر کرنے میں تاخیر کو نظرانداز کرتے ہوئے قانونی بنیاد پر اس کیس کی سماعت کی جائے۔

واضح رہے کہ محمد کامل کو 27 ستمبر 2022 کو القاعدہ سے تعلق کے الزام میں لکھنؤ کے گومتی نگر پولیس اسٹیشن سے گرفتار کیا گیا تھا اور تعزیرات ہند کی دفعات 121A، 123 اور یو اے پی اے کی دفعات 13، 18، 20، 38 کے تحت مقدمہ نمبر 4/2022 درج کیا گیا تھا۔ محمد کامل کی طرف سے یو اے پی اے کی دفعہ 43(D) اور سی آر پی سی کی دفعہ 167(2) کے تحت ڈیفالٹ ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس کی بنیاد یہ تھی کہ تفتیشی ایجنسی نے 90 دن کی مدت میں چارج شیٹ داخل نہیں کی۔ تاہم خصوصی عدالت کے فیصلے کو 30 دن کے اندر چیلنج نہیں کیا گیا تھا، اس لیے ہائی کورٹ نے اس عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا تھا، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (قانونی امداد کمیٹی) کی جانب سے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر اس معاملے کی پیروی کی جا رہی ہے۔ کیس کی پیروی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چاند قریشی نے کی، جب کہ سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی معاونت ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ مجاہد احمد اور دیگر وکلاء نے کی۔ واضح رہے کہ اس مقدمے میں دیگر ملزمین کو دو سال قبل ہی ضمانت مل چکی ہے، لیکن محمد کامل کی عرضی تاخیر سے دائر ہونے کی وجہ سے اس کی سماعت رکی ہوئی تھی۔ اب سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ محمد کامل کی ضمانت عرضی پر جلد فیصلہ آئے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read