شدید بارش سے پریشان عوام کے لیے مودی حکومت فکرمند ہے۔ مرکز مسلسل ریاستی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور امدادی کام جاری ہیں۔ مودی حکومت کے وزراء مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خود پی ایم مودی بھی ذاتی طور پر حالات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے پی ایم نریندر مودی آج پنجاب اور ہماچل پردیش کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعےکلو، منڈی اور چمبہ میں ہونے والے نقصانات کا فضائی جائزہ لیا۔
سروے کے بعد اہم اجلاس
فضائی سروے کے بعد پی ایم مودی نے دھرمشالہ میں آفت سے متعلق ایک اہم اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو بھی موجود تھے۔ اجلاس کے بعد پی ایم مودی، منڈی،کلو اور چمبہ اضلاع کے 18 متاثرہ افراد سے ملاقات کریں گے اور ان کے مسائل سنیں گے۔ آج شام وہ پنجاب جا کر وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔زرعی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے 5 ستمبر کو امرتسر، گرداسپور اور کپور تھلہ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کر کے متاثرین سے ملاقات کی تھی۔
دونوں ریاستوں نے مانگی مدد
منگل کی شام پی ایم مودی پنجاب کے گرداسپور، جائیں گے، جہاں وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کر کے ان کی پریشانیاں سنیں گے۔ اس سے پہلے پنجاب کی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے مرکز سے 80 ہزار کروڑ روپے کی امداد مانگی ہے، جب کہ ہماچل کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے خصوصی امدادی پیکج کی درخواست کی ہے۔
حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے
دورے سے پہلے پی ایم نریندر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت حالیہ سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے متاثرہ عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ سوشل میڈیا پر پی ایم مودی نے بتایا کہ وہ سیلاب اورلینڈ سلائیڈنگ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہماچل پردیش اور پنجاب روانہ ہو رہے ہیں، اور یہ کہ حکومت اس مشکل وقت میں متاثرین کے ساتھ ہے۔
حکومت کے اقدامات
پنجاب میں سیلاب کے دوران امدادی کارروائیوں کے لیے مرکز کی جانب سے فوج، ایئر فورس اور بی ایس ایف کی ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں۔ اب تک فوج کی 23 ٹیمیں اور 2 انجینئرنگ ٹاسک فورسز تعینات کی جا چکی ہیں۔ ایئر فورس اور آرمی کے 30 سے 35 ہیلی کاپٹرز اور بی ایس ایف کی ایک بٹالین بھی امدادی کاموں میں مصروف ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


