بی جے پی ایم پی منوج تیواری نے بہار کے حوالے سے دیے گئے ایک متنازع بیان پر کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کیرالہ کانگریس کی جانب سے سوشل میڈیا پر ’’بیڑی‘‘ سے بہار کے توہین آمیز موازنے پر ردعمل دیتے ہوئے منوج تیواری نے اپوزیشن کے اتحاد کو ’’بہار کا دشمن‘‘ قرار دیا۔ پٹنہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منوج تیواری نے کہا کہ ’’کانگریس کا کردار ہمیشہ سے بہاری عوام کی توہین سے بھرا رہا ہے۔ یہ جماعت نہ صرف بہار کی ترقی کے خلاف ہے بلکہ اس کی عوامی شناخت کو بھی مجروح کرتی آئی ہے۔‘‘
انھوں نے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی کے اس پرانے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انھوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ’’بہاریوں کو پنجاب میں داخل نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ اور اس بیان پر کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کے ہنسنے کا ذکر کرتے ہوئے منوج تیواری نے کہا کہ یہ واضح مثال ہے کہ کانگریس بہار کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔
’’بہار اب پیچھے نہیں‘‘: منوج تیواری
منوج تیواری نے این ڈی اے حکومت کی جانب سے ریاست میں ترقیاتی کاموں، پلوں کی تعمیر، مکھانا کاروبار اور مدھوبنی پینٹنگ جیسے ثقافتی ورثے کے فروغ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’بہار اب تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس سفر کو کوئی نہیں روک سکتا، چاہے اپوزیشن کتنی ہی سازشیں کرلے۔‘‘ انھوں نے آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انھیں ’’اپنے والد لالو پرساد اور رابڑی دیوی کے ’جنگل راج‘ والے دور کا حساب بھی دینا چاہیے۔‘‘
بین الاقوامی سطح پر بھارت کی مضبوط پوزیشن
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے منوج تیواری نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کو ایسی عالمی حیثیت دی ہے کہ اب کوئی ملک بھارت کو دبا نہیں سکتا۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت نے کسانوں کے مفاد میں ایسے فیصلے کیے جو امریکی دباؤ کے باوجود قومی مفاد میں ثابت ہوئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے حالیہ جی ایس ٹی اصلاحات کو عوام کے لیے تحفہ قرار دیا اور مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق حکومت نے خاص طور پر صحت سے متعلق اشیاء پر ٹیکس کم یا ختم کر کے عام آدمی کو بڑی راحت دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
