کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی کے خلاف راؤزایونیو کورٹ میں ایک فوجداری شکایت دائر کی گئی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے بھارتی ووٹر کا درجہ حاصل کرنے کے لیے دستاویزات میں جعلسازی کی جبکہ اُس وقت وہ بھارتی شہری نہیں تھیں۔ یہ شکایت وکیل وکاس ترپاٹھی کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں یہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ سونیا گاندھی اپریل 1983 میں بھارتی شہریت حاصل کرنے سے پہلے کس طرح ووٹ ڈالنے کے قابل ہوئیں۔
سماعت اور اگلی تاریخ
یہ معاملہ ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ویبھو چورسیا کے سامنے آیا، جنہوں نے شکایت کنندہ کی جانب سے تفصیلی دلائل سنے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور اب معاملے کی مزید سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔
درخواست گزار کا موقف
سینئروکلاء انل سونی اور پون نارنگ شکایت کنندہ کی طرف سے پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ پون نارنگ نے موقف اختیار کیا کہ یہ مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ قانونی نوعیت کا ہے اور اس میں ایسی چیزیں شامل ہیں جو مجرمانہ ہیں لہٰذا پولیس تحقیقات ضروری ہے۔ شکایت کے مطابق، سونیا گاندھی جو پیدائش کے لحاظ سے اطالوی شہری تھیں، 30 اپریل 1983 کو قانون شہریت کی دفعہ 5 کے تحت بھارتی شہری بنیں۔ تاہم، ان کا نام 1981-82 میں ہی نئی دہلی پارلیمانی حلقے کی ووٹر فہرست میں شامل تھا، جس سے اس وقت الیکشن کمیشن کو دی گئی دستاویزات پر سوال اٹھتے ہیں۔
دستاویزات اور ووٹر لسٹ میں نام کی تنسیخ
ایڈووکیٹ نارنگ نے بتایا کہ 1982 میں سونیا گاندھی کا نام، اپنے مرحوم برادر نسبتی سنجے گاندھی کے نام کے ساتھ، ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس سے پہلے ان کا اندراج غیرقانونی تھا کیونکہ صرف بھارتی شہری ہی ووٹر کے طور پر رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں ان کا نام شامل کرانے کے لیے جعلی یا غلط دستاویزات استعمال کی گئی ہوں گی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’’ایک عوامی ادارے کو گمراہ کیا گیا اور دھوکہ دہی کا ارتکاب ہوا ہے‘‘۔
پولیس سے رجوع اور عدالتی کارروائی
ایڈووکیٹ نارنگ کے مطابق، اس معاملے پر دہلی پولیس اور سینئر افسران سے رجوع کیا گیا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جس کے بعد عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ درخواست میں ایف آئی آر درج کرنے اور مبینہ جرائم کی تحقیقات کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شکایت میں 1985 کے الہ آباد ہائی کورٹ کے مقدمہ راکیش سنگھ بنام سونیا گاندھی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں انتخابی عریضہ کے تناظر میں سونیا گاندھی کی شہریت کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس وقت عدالت نے قرار دیا تھا کہ وہ 30 اپریل 1983 کو رجسٹریشن کے ذریعے بھارتی شہری بنی تھیں۔ موجودہ درخواست کے مطابق، اس تاریخ سے پہلے ووٹر رجسٹریشن غیر قانونی تھا۔
تحقیقات کا مطالبہ
درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کو ہدایت دی جائے کہ وہ اس وقت کے الیکشن کمیشن کے ریکارڈ طلب کرے اور جمع شدہ دستاویزات کی جانچ کرے۔ عدالت اس معاملے پر دوبارہ سماعت 10 ستمبر 2025 کو کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


