نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس میں ملزم علیحدگی پسند کشمیری لیڈر شبیر احمد شاہ کی باقاعدہ ضمانت کی عرضی پر جمعرات کے روز نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ اس دوران عدالت نے شاہ کی عبوری ضمانت کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ اب ان کی باقاعدہ ضمانت عرضی پر دو ہفتے بعد سماعت ہوگی۔
شبیر شاہ کی جانب سے سینئر وکیل کولن گونسالویس نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 74 سالہ شاہ گزشتہ چھ سال سے جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف درج مقدمے میں تقریباً 400 گواہوں کی فہرست دی گئی ہے لیکن اب تک صرف 15 گواہ ہی گواہی دے سکے ہیں۔ گونسالویس نے یہ بھی کہا کہ شاہ کو باقاعدہ ضمانت پر سماعت تک عبوری ضمانت دی جانی چاہئے، تاکہ ان کی عمر اور صحت کو دیکھتے ہوئے انہیں راحت مل سکے۔
سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت دینے سے کیا انکار
حالانکہ، سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاملے کی اگلی سماعت مقررہ تاریخ پر ہوگی۔ غور طلب ہے کہ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے شبیر شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ شبیر شاہ پر جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے اور حوالہ کے ذریعے دہشت گردی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کا الزام ہے۔
شبیر کو 4 جون 2019 کوNIA نے کیا تھا گرفتار
شبیر شاہ کو 4 جون 2019 کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر حزب المجاہدین کے سید صلاح الدین، لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور افتخار حیدر رانا جیسے پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں سے رابطے کا بھی الزام ہے۔ اے آئی اے کا دعویٰ ہے کہ شاہ نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے اور جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے میں کردار ادا کیا۔
یہ معاملہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق ہے جس کی این آئی اے مسلسل تحقیقات کر رہی ہے۔ شبیر شاہ کی گرفتاری کے بعد سے یہ معاملہ سرخیوں میں رہا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

