جندل گلوبل یونیورسٹی میں ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی کی یاد میں منعقدہ لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے انسانی وقار کو آئین کا بنیادی جزو قرار دیا اور اس کے تحفظ و فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی وقار آئین کی روح ہے اور یہ ہر شہری کا پیدائشی حق ہے۔
آئین میں انسانی وقار کا تصور
چیف جسٹس نے کہا کہ بھارتی آئین میں انسانی وقار کو اس طرح مرکز میں رکھا گیا ہے کہ ہر شخص، خواہ اس کا تعلق کسی بھی ذات، طبقے یا پس منظر سے ہو، عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ یہ تصور اس بات کی علامت ہے کہ ہر فرد کی اپنی ایک فطری قدر ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ اخوت نہ صرف ایک سماجی اصول ہے بلکہ جمہوریت کی بنیادی خصوصیت بھی ہے۔
بنیادی حقوق میں وقار کی شمولیت
سی جے آئی نے وضاحت کی کہ اگرچہ آئین کے حصہ سوم میں انسانی وقار کا لفظ براہِ راست درج نہیں، لیکن عدلیہ نے اپنی تشریحات میں اسے بنیادی حقوق کی بنیاد تسلیم کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 14 میں من مانی پر پابندی، آرٹیکل 15 میں امتیاز کے خلاف تحفظ اور آرٹیکل 16 میں مساوی مواقع کی ضمانت، سب اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر شخص کی عزت نفس محفوظ رہے۔
آزادی اور آرٹیکل 19 تا 21 کا کردار
چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی وقار آرٹیکل 19 میں درج آزادیوں کو جِلا بخشتا ہے، جن میں اظہارِ رائے، تنظیم سازی اور آزادانہ نقل و حرکت شامل ہیں۔ سب سے اہم، آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور شخصی آزادی کے حق کو سپریم کورٹ نے اس طرح وسیع کیا ہے کہ اس میں شخصی خودمختاری، جسمانی سلامتی اور توہین آمیز سلوک سے آزادی کے ساتھ باوقار زندگی کا حق بھی شامل ہو۔
عدالتی اعتراف اور جیل اصلاحات
سی جے آئی نے کہا کہ انسانی وقار کے اصول کو 1970 کی دہائی کے اواخر میں عدالتی حیثیت ملی، جب ملک بھر سے جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات سامنے آئیں۔ عدالتوں نے یہ واضح کیا کہ آزادی سے محرومی کا مطلب ذلت یا اذیت نہیں ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے کہا کہ آج میں جس مقام پر ہوں، وہ بھارتی آئین اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے وژن کا نتیجہ ہے۔ آئین سازوں کے لیے انسانی وقار ایک مرکزی فکر تھی اور مختلف قسم کی تحقیر و امتیاز کو ختم کرنے کے لیے آئین کو ایک حل کے طور پر تیار کیا گیا۔ آئین نے وقار کو آزادی، مساوات، اخوت اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے ساتھ جوڑا ہے، جو قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے لیے ضروری ہیں۔
انسانی وقار اور عدالتی رویہ
چیف جسٹس کے مطابق یہ تمام دفعات اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ انسانی وقار کا تحفظ اور فروغ بنیادی حقوق کے ڈھانچے میں ایک متحد اصول ہے۔ بھارت میں انسانی وقار کے اصول کو 1970 کی دہائی کے آخر میں عدالتی سطح پر تسلیم کیا گیا، خاص طور پر اس وقت جب جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی رپورٹس منظر عام پر آئیں۔ عدالتوں نے قرار دیا کہ آزادی سے محروم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ قیدی کو تحقیر یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے، بلکہ حراست میں بھی اس کے انسانی حقوق برقرار رہتے ہیں۔
’’قیدی انسان ہیں، جانور نہیں‘‘
سنیل بترا بنام دہلی ایڈمنسٹریشن مقدمے میں سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے زیرِ سماعت قیدیوں، سزا یافتہ مجرموں اور سزائے موت پانے والوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا نوٹس لیا۔ اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ جیل حکام آئینی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ نہیں اور بنیادی حقوق کی پامالی ایک ادارہ جاتی توہین ہے۔ عدالت نے یہ تاریخی الفاظ کہے کہ ’’قانون کی نظر میں قیدی انسان ہیں، جانور نہیں‘‘ اور عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ جیل کے ان محافظوں کو جوابدہ بنائے جو انسانی وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


