Urdu Conclave 2026

Kim Jong’s staff destroyed every evidence: کوئی گلاس ساتھ لے گیا، کسی نے کرسی سے مٹائے ہر طرح کے نشان، پوتن سے ملاقات کے بعد کم جونگ اُن کے عملے نے مٹا ڈالے سبھی ’ثبوت‘

بیجنگ میں تاریخی ملاقات کے بعد شمالی کوریائی عملے کی فورنزک جیسی صفائی، پوتن کے ساتھ کم کے استعمال شدہ ہر سامان کو احتیاط سے ہٹا دیا گیا، ملاقات ختم ہوتے ہی کم کا عملہ الرٹ موڈ میں دکھائی دیا

 

بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کی ملاقات کے فوراً بعد شمالی کوریائی عملہ حرکت میں آ گیا۔ جس کرسی پر کم بیٹھے تھے، اسے نہایت باریکی سے صاف کیا گیا۔ کم کے ساتھ آئے عملے نے ایک ایک کر کے وہ تمام نشانات مٹا دیے جو ملاقات کے دوران کم کی موجودگی کا پتہ دیتے تھے۔

ویڈیو نے لوگوں کو کردیا حیران

یہ واقعہ بدھ کو اس وقت سامنے آیا جب چین کی شاندار فوجی پریڈ کے بعد تینوں ممالک کے رہنماؤں نے ملاقات کی۔ جاری فوٹیج میں کم کے دو معاون تیزی سے صفائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک اہلکار کرسی کے پچھلے حصے اور کرسی کے ہینڈل کو ٹشو سے صاف کرتا دکھائی دیتا ہے جبکہ ساتھی اہلکارایک ٹرے میں احتیاط سے کم کا گلاس رکھ کر ساتھ لے جاتی ہے۔

ہر چھوا ہوا سامان صاف یا غائب

کم نے جس بھی چیز کو چھوا، اسے یا تو خوب صاف کیا گیا یا اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ کرسی کے ہینڈل، سائیڈ ٹیبل اور دیگر اشیاء کو اس وقت تک رگڑا گیا جب تک کہ کسی قسم کا کوئی نشان باقی نہ رہا۔ روسی صحافی الیگزینڈر یوناشیف نے بتایا کہ یہ سب کم کی موجودگی کے ہر ثبوت کو مٹانے کے لیے کیا گیا۔

سکیورٹی یا نگرانی سے بچاؤ؟

اس انتہائی احتیاط کا باضابطہ سبب سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر روس کی خفیہ ایجنسیوں یا چین کی نگرانی سے بچنے کی ایک تدبیر ہو سکتی ہے۔ کم اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں، پوتن بھی اپنے حیاتیاتی نمونے محفوظ رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرتے ہیں۔

پوتن بھی ساتھ لے جاتے ہیں ’پیشاب اور فضلہ‘

رپورٹس کے مطابق پوتن غیر ملکی دوروں میں اپنے پیشاب اور فضلہ کو خصوصی پیکٹس میں محفوظ کروا کر روس واپس بھیجتے ہیں تاکہ ان کی صحت سے متعلق خفیہ معلومات حاصل نہ کی جا سکیں۔ یہ سلسلہ 2017 سے جاری ہے اور اہم بین الاقوامی ملاقاتوں میں بھی اپنایا گیا ہے۔

گرمجوشی سے ملاقات اور تعاون کا وعدہ

بیجنگ کی اس ملاقات میں کم نے پوتن کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ روس اور اس کے عوام کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں، اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پوتن نے بھی ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یوکرین جنگ میں تعاون پر پيونگ یانگ کی تعریف کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read