حال ہی میں ویشنو دیوی یاترا کے دوران جموں و کشمیر میں آنے والی شدید بارشوں اور زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے المناک واقعے نے نہ صرف 30 سے زائد قیمتی جانیں نگل لیں بلکہ ریاستی نظم و نسق اور مرکز کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقے بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا شکار ہوئے ہیں۔ مگر ہر سال ان آفات کے باوجود، ان سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات نہ ہونا، حکومتی دعووں کی قلعی کھول دیتا ہے۔ ریاست کے بنیادی ڈھانچے، جیسے پل، سڑکیں، اور ریلوے لائنیں، معمولی قدرتی دباؤ میں ہی تباہ ہو جانا انتظامی لاپرواہی کا بین ثبوت ہے۔
#WATCH | रियासी, जम्मू-कश्मीर: ऊपरी क्षेत्रों में लगातार भारी बारिश होने के कारण चिनाब नदी अपने ऊफान पर है। pic.twitter.com/108ohQdSxz
— ANI_HindiNews (@AHindinews) August 27, 2025
مرکزی اور ریاستی حکومت کی تیاری ناکام کیوں؟
بھارتی حکومت آئے دن “ڈویلپمنٹ” اور “نئے بھارت” کے دعوے کرتی ہے، لیکن جب قدرتی آفات کا سامنا ہوتا ہے، تو انتظامیہ کی بے بسی نمایاں ہوجاتی ہے۔ ویشنو دیوی جیسے اہم مذہبی مقام پر ہر سال لاکھوں یاتری آتے ہیں، مگر ان کی حفاظت کے لیے انفرااسٹرکچر کو مستحکم کرنا کبھی بھی حکومت کی ترجیح نہیں بن سکا۔
این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور فوج کی امدادی کارروائیاں قابلِ تعریف ہیں، لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ تیاری پہلے سے موجود ہونی چاہیے تھی؟ اگر محکمہ موسمیات نے پہلے سے وارننگ جاری کی تھی، تو یاترا کیوں جاری رکھی گئی؟ کیا انسانی جانوں کی قیمت محض ایک نمبر بن کر رہ گئی ہے؟
سیاسی قیادت کا روایتی ردعمل
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ایمرجنسی میٹنگ، ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رکھنے کی ہدایت، اور کھانے پانی کی فراہمی کے احکامات، یہ سب اس وقت کیے گئے جب آفت آچکی تھی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری سیاست “ری ایکٹیو” ہے، “پری وینٹیو” نہیں۔ ہر واقعے کے بعد تعزیت، سروے، مالی امداد، اور تفتیشی کمیٹیوں کی روایت جاری رہتی ہے، لیکن زمینی تبدیلی کہیں نظر نہیں آتی۔
عوام بے حال، نظام بے خبر
رہائشی علاقوں میں ندی نالوں کا پانی داخل ہونا، موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کا بند ہونا، اور اسکولوں کا بند ہونا، عوام کی زندگی کو معطل کر دیتی ہے۔ مگر نہ تو شہری منصوبہ بندی میں کوئی بہتری آتی ہے، نہ ہی انفرااسٹرکچر کو آفات کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔ جموں، ڈوڈا، کٹھوعہ، اور سانبہ جیسے حساس علاقوں میں اربن پلاننگ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کا کوئی مربوط منصوبہ نہ ہونا ایک سنگین غفلت ہے۔
اختتامیہ: قدرتی آفات سیاست کا آئینہ
یہ سانحہ محض ایک موسمی حادثہ نہیں، بلکہ حکومت کی ترجیحات، منصوبہ بندی کی کمزوری اور انسانی جانوں کی بے قدری کی سیاسی تصویر ہے۔ جب تک قدرتی آفات کو محض اتفاق سمجھا جاتا رہے گا اور ان سے نمٹنے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، اس طرح کے سانحات ہوتے رہیں گے، اور ہر بار “موقع پر موجود” حکومتیں محض ہمدردی کا اظہار کرتی رہیں گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دان نعرے بازی سے نکل کر زمینی حقائق کا سامنا کریں، اور قدرتی آفات کے لیے مستقل، سائنس پر مبنی، اور انسانی مرکزیت رکھنے والی حکمتِ عملی اپنائیں۔ تبھی ہم ان واقعات کو قدرت کا قہر نہیں، بلکہ ایک قابلِ حل مسئلہ بنا سکیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

