Bharat Express DD Free Dish

Landslide

گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور پر تباہ، 4 سرکاری کوارٹر بھی خطرے میں

حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ سیچے میں واقع سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ سمیت عوامی بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اینچے اسکول کے 33/11 کے وی سوئچنگ اسٹیشن کے قریب ملبہ جمع ہونے سے بھی ممکنہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

نیپال کے دارچولا ضلع میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈ کے باعث چمیلیا (چولانی) دریا کا راستہ رک گیا ہے، جس سے ملبے کے پیچھے پانی جمع ہو رہا ہے۔ اگر یہ عارضی جھیل ٹوٹ گئی تو کالی دریا کے ذریعے اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا کر پھنسے ہوئے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائی مسلسل جاری ہے اور ملبے میں دبے لوگوں کو جلد از جلد باہر نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سمیت تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

ہماچل پردیش اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) جے رام ٹھاکر نے بھی حادثے پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی دردناک اور دل دہلا دینے والا حادثہ ہے اور اس غم کی گھڑی میں ان کی گہری ہمدردیاں مہلوکین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ ضلع کلکٹر نے بتایا کہ جو مزدور بحفاظت سرنگ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، انہوں نے بیان دیا کہ حادثے سے کچھ لمحے قبل سرنگ کے اندر دھماکے جیسی زور دار آواز سنائی دی تھی۔

پہلی بارش کے باعث متاثرہ مقام پر مرمتی کام تیزی سے مکمل ہو گیا ہے، کمپنی نے  عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل بھی کی ہے۔

نیوزی لینڈ فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے کمانڈر ولیم پائیک نے بتایا کہ ابتدائی طور پر امدادی ٹیموں کو ملبے کے نیچے سے کچھ آوازیں سنائی دی تھیں، لیکن بعد میں کوئی آواز نہیں آئی۔ اب تک کسی بھی زندہ شخص کے ملنے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

انڈونیشیا کے متعدد علاقوں میں اچانک آئے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ صدر پرابوو سوبیانتو نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کو یقین دلایا کہ حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ اس آفت سے ہزاروں عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔

جمیکا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہنگامی امدادی پروازیں پہنچنا شروع ہو گئی ہیں، جو بدھ کی رات دوبارہ کھولا گیا۔ عملہ خوراک، پانی اور طبی سامان تقسیم کر رہا ہے، جبکہ ہیلی کاپٹر منہدم پلوں اور بند سڑکوں سے کٹے ہوئے دور دراز علاقوں تک امداد پہنچا رہے ہیں۔