کرناٹک کے مشہور مذہبی مقام دھرمستھلا میں اس وقت ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب 3 جولائی کو ایک نقاب پوش شخص ہاتھ میں ایک انسانی کھوپڑی لے کر پولیس اسٹیشن میں داخل ہوا اور اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے 1990 کی دہائی سے 2000 تک کے درمیان سینکڑوں خواتین، جن میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین بھی شامل تھیں، کی لاشیں دفن کی ہیں۔ اس شخص کی شناخت بعد میں سی این چنّیا کے نام سے ہوئی، جس نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ضمیر کے بوجھ تلے دب کر سچائی سامنے لانے آیا ہے۔ چنّیا کی چونکا دینے والی باتوں نے علاقے میں دہائیوں سے گمشدہ لڑکیوں کی افواہوں کو پھر سے زندہ کر دیا اور دھرمستھلا کو قومی سطح پر موضوع بحث بنا دیا ہے۔
تاہم چند ہفتوں میں ہی یہ انکشافات ایک الجھی ہوئی سازش کی صورت اختیار کر گئے۔ چنّیا کی جانب سے نشان زدہ 13 مقامات میں سے صرف دو جگہوں پر انسانی باقیات ملیں۔ بعد ازاں چنّیا کی سابق بیوی اور جاننے والوں نے اسے ’جھوٹ بولنے والا‘ قرار دیا۔ پولیس نے اسے حلفیہ جھوٹ بولنے پر گرفتار کیا، جس کے بعد چنّیا نے دعویٰ کیا کہ وہ دباؤ میں آ کر یہ سب بولنے پر مجبور ہوا۔
ایس آئی ٹی سرگرم، ’سازش‘ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش
کرناٹک پولیس کی ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) اب اس پوری سازش کی گتھی سلجھانے میں مصروف ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس سازش کی تیاری کئی ماہ پہلے سے جاری تھی۔ ایک ٹیم دہلی گئی، سپریم کورٹ کے وکلاء سے ملاقات کی گئی اور مارچ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی جس میں اسی کھوپڑی کی تصویر شامل تھی جو بعد میں چنّیا کے ہاتھ میں دیکھی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس کے پاس جانے سے پہلے چنّیا نے کچھ یوٹیوبرز کو بھی انٹرویوز دیے تھے، جن میں اس نے اجتماعی قبروں کا ذکر کیا، لیکن ان ویڈیوز کو نشر نہیں کیا جا سکا۔
انھی ویڈیوز میں وہ نقاب کے بغیر نظر آیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی شناخت چھپانا کوئی ترجیح نہیں تھی۔ کھوپڑی کی اصل حقیقت پر بھی سوالات اٹھے ہیں، کیونکہ چنّیا نے اس کے بارے میں مختلف اور متضاد بیانات دیے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کھوپڑی دھرمستھلا کی نہیں ہے۔ تاہم اس کی فارنسک رپورٹ کا انتظار ہے۔
دھرمستھلا کی تاریخ، اثر و رسوخ اور پرانے کیسز
دھرمستھلا بنگلورو سے تقریباً 300 کلومیٹر دور واقع ہے اور یہاں واقع 800 سال پرانا منجوناتھیشور مندر ملک بھر میں مشہور ہے۔ اس مندر کا انتظام ایک جین خاندان کے ہاتھ میں ہے، جب کہ پوجا ہندو برہمن کرتے ہیں۔ موجودہ منتظم، جسے ’’دھرم ادھیکاری‘‘ کہا جاتا ہے، ویرندر ہیگڈے ہیں، جو راجیہ سبھا کے نامزد رکن بھی ہیں۔ دھرمستھلا میں لڑکیوں کی پراسرار گمشدگی کی خبریں برسوں سے گردش میں رہی ہیں۔ 1987 میں 17 سالہ پدما لتھا کی لاش ملی تھی، جس میں ریپ اور قتل کا الزام عائد کیا گیا، لیکن کیس حل نہ ہو سکا۔
2012 میں 17 سالہ سوجنیا کا ریپ اور قتل ایک بڑا قومی مسئلہ بن گیا تھا، لیکن ثبوت کی کمی کے باعث ملزم بری ہو گیا۔ حالیہ معاملے میں بھی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کے لاپتا ہونے کا الزام لگایا، مگر بعد میں اس الزام کو واپس لے لیا اور اعتراف کیا کہ اسے جائیداد کے تنازعے کے باعث ایسا کرنے پر اکسایا گیا تھا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دھرمستھلا میں لاپتا افراد اور غیر فطری اموات کی تعداد 400 کے قریب بتائی جاتی ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی باضابطہ تحقیق نہیں کی گئی۔
سیاسی ہنگامہ: بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے
چنّیا کے انکشافات نے ریاست میں سیاسی طوفان برپا کر دیا ہے۔ بی جے پی نے اسے ’’مندر کو بدنام کرنے کی سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی کے ایم پی تیجسوی سوریہ نے کہا کہ دھرمستھلا ’’ایک منظم سازش کا شکار ہوا ہے‘‘۔ دوسری طرف ریاستی وزیر داخلہ جی پرمیشور نے کہا ہے کہ SIT مکمل سنجیدگی سے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور کسی مرکزی ایجنسی کی ضرورت نہیں۔
البتہ ان کے کابینہ ساتھی ستیش جارکِی ہولی نے این آئی اے یا اس سے بھی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی حمایت کی ہے۔ مندر انتظامیہ نے بھی SIT کی تحقیقات کا خیرمقدم کیا ہے۔ ترجمان کے پرشوناتھ جین نے کہا کہ ’’سچائی اور عقیدہ معاشرتی اقدار کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ SIT اعلیٰ سطحی تحقیقات کرے گی اور حقائق کو سامنے لائے گی۔‘‘
سچ کیا ہے؟
یہ سوال کہ کیا دھرمستھلا میں واقعی اجتماعی قبریں ہیں، یا یہ سب ایک گہری اور منظم سازش ہے، اب بھی جواب کی تلاش میں ہے۔ SIT کی تحقیقات سے آنے والے ہفتوں میں کئی پرتیں کھلنے کی امید ہے۔ تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ افواہوں، مفروضات اور سیاست کے ملاپ سے سچائی اکثر دھندلا جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
