شملہ: مسلسل بارش اور سیلاب نے ہماچل پردیش میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس سے کئی اضلاع میں سڑکیں، بجلی اور پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ریوینیو، باغبانی اور قبائلی ترقی کے وزیر جگت سنگھ نیگی نے پیر کو کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مونسون ’’انتہائی فعال‘‘ رہا، جس نے خاص طور پر چمبا، کانگڑا، منڈی، شملہ اور لاہول-اسپیتی کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے کہا ’’چمبا ضلع میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جب کہ کانگڑا، منڈی، شملہ اور لاہول-اسپیتی کے کئی علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ کئی جگہوں پر سڑکیں بند ہیں اور رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔‘‘
نقصانات اور متاثرہ بنیادی ڈھانچہ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 625 سڑکیں بند ہیں، جن میں تین قومی شاہراہیں بھی شامل ہیں۔ 1,500 سے زائد ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز متاثر ہوئے ہیں۔ پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو نسبتاً کم نقصان ہوا ہے اور تقریباً 162 اسکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔ وزیر نے بتایا کہ مانسون کے دوران ریاست کو جانی اور مالی دونوں لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ’’محکمہ موسمیات نے 27 اگست تک کئی علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جہاں آمدورفت متاثر ہو، وہاں مقامی انتظامیہ تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔‘‘
ماضی کے حادثات اور فوری ریلیف
نیگی نے کہا کہ مونسون کے آغاز سے اب تک ریاست میں بار بار بادل پھٹنے اور سیلاب جیسے واقعات پیش آئے ہیں۔ ’’ہم پہلے دن سے الرٹ تھے۔ جہاں بھی آفت آئی، فوراً ریلیف کام شروع کیا گیا۔ اسمبلی اجلاس کے دوران بھی چار دن تک صورتحال پر بحث جاری رہی، لیکن کہیں بھی ریلیف میں کوتاہی نہیں ہوئی۔‘‘
ملک کا بہترین ریلیف پیکیج
وزیر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو کی قیادت میں ریاستی کابینہ نے ایسا ریلیف پیکیج منظور کیا ہے جو مرکز کے ریلیف مینوئل کی دفعات سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’2023 میں مکمل طور پر تباہ شدہ مکان کے معاوضے کو 1.5 لاکھ روپے (جس میں سے ریاست 30 ہزار روپے برداشت کرتی تھی) سے بڑھا کر 7 لاکھ روپے کیا گیا۔ اس سال بھی یہ رقم برقرار رکھی گئی ہے۔ جزوی طور پر تباہ شدہ مکان کے لیے مرکز کی پالیسی میں 6 ہزار روپے تھے، ہم نے اسے بڑھا کر 1 لاکھ روپے کر دیا۔ گھریلو سامان کے نقصان پر 2,500 روپے کی بجائے اب 70 ہزار روپے ملیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’فصل انشورنس پہلے فی بیگھہ 3 ہزار روپے دیتی تھی، اب زمین اور فصل کے بہہ جانے پر 10 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ مویشیوں کے نقصان پر معاوضہ 2023 میں 3 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار کیا گیا تھا اور اس سال مزید بڑھا کر 9 ہزار کر دیا گیا ہے، جانوروں کی تعداد کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ گئوشالہ کو نقصان پہنچنے پر 50 ہزار روپے اور دکان کو نقصان ہونے پر 1 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔‘‘
عوام کے لیے انتباہ
وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ ریڈ الرٹ کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ مسلسل بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش جاری ہے۔ ’’میری گزارش ہے کہ صرف ضرورت پڑنے پر ہی گھر سے نکلیں، اس وقت سب سے ضروری اپنی حفاظت ہے۔‘‘
ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی کل تعداد 303 ہو گئی ہے، جن میں 155 افراد بارش سے متعلق حادثات اور 148 افراد سڑک حادثات میں مارے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


