کیرلا میں کانگریس کے پلکّڑسے رکن اسمبلی راہل ممکوٹاتھل پرناشائستہ طرزعمل سے متعلق لگے سنگین الزامات کے بعد پارٹی نے معطل کردیا ہے۔ ایک رکن اسمبلی کے طورپروہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اس سے پہلے راہل ممکوٹاتھل نے خود ہی یوتھ کانگریس کے ریاستی صدرعہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ملیالم اداکارہ رینی این جارج اوررائٹرہنی بھاسکرن نے راہل ممکوٹاتھل پرفحش اورناشائستہ طرزعمل کے سنگین الزام لگائے تھے، جس کے بعد راہل ممکوٹاتھل کوپارٹی کی ابتدائی رکنیت سے معطل کردیا گیا۔
ناشائستہ طرزعمل کے الزامات کے سبب بی جے پی اورکمیونسٹ پارٹی راہل ممکوٹاتھل کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی ایم) کے یوتھ ونگ ڈی وائی ایف آئی نے بھی پالکڈ میں راہل ممکوٹاتھل کے دفترکی طرف مارچ کیا اوران کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ کوزی کوڈ کارپوریشن سے بی جے پی کونسل لیڈرنویا ہری داس کی طرف سے الزام لگایا کہ راہل ممکوٹاتھل کے خلاف اوربھی کئی الزامات لگائے گئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا استعفیٰ اوراحتجاج کا مطالبہ
مہیلا مورچہ کی ریاستی صدرنے کہا کہ راہل ممکوٹاتھل کے خلاف نہ صرف کئی خواتین بلکہ خواجہ سراؤں (ٹرانسجینڈر) نے بھی جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرائی ہے۔ راہل ممکوٹاتھل کے خلاف یہ تمام الزامات بے بنیاد نہیں ہیں۔ کچھ اورچیزیں جیسے چیٹ ہسٹری، وائس میسیجزسامنے آرہے ہیں۔ بی جے پی لیڈرنے مطالبہ کیا ہے کہ مہیلا مورچہ نہ صرف پلکاڈ ضلع میں بلکہ کیرلا کے 30 اضلاع میں بھی احتجاج کرے گا۔
کانگریس نے جانچ کرنے کی بات کہی
کیرلاکے اپوزیشن لیڈراورکانگریس لیڈروی ڈی ستیشن نے راہل ممکوٹاتھل کے خلاف تبصرہ کیا تھا اوریقین دلایا تھا کہ پارٹی اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ انہوں نے زوردے کر کہا تھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی انتہائی سنجیدگی سے تحقیقات کی جائیں گی۔ راہل ممکوٹاتھل کوبھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ پارٹی فیصلہ لینے میں زیادہ وقت نہیں لگائے گی اورکسی بھی طرح سے کوئی نرمی نہیں کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



