مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو تمل ناڈو میں برسراقتدار دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدعنوانی، ظلم اور خاندانی سیاست کی علامت یہ حکومت اب زیادہ دن کی مہمان نہیں‘‘۔ ترونیلویلی میں منعقدہ ’بوتھ کارکن سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ریاست کے عوام ڈی ایم کے حکومت کو اکھاڑ پھینکنے اور این ڈی اے حکومت قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انھوں نے ویڈیو پوسٹ کی جس میں کہا کہ ’’بدعنوان، ظالم اور خاندانی ڈی ایم کے حکومت کے دن اب گنے جا چکے ہیں۔ تمل ناڈو کے عوام اس حکومت کو ہٹاکر این ڈی اے حکومت لانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
آئین میں 130ویں ترمیم پر اپوزیشن کی مخالفت پر کی تنقید
امت شاہ نے اپنے خطاب میں 130ویں آئینی ترمیمی بل پر اپوزیشن کی مخالفت پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ بل واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر کوئی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم جیل جاتا ہے تو اسے استعفیٰ دینا ہوگا۔ ڈی ایم کے کے دو سینئر وزرا، کے پونموڈی اور سنتھل بالا جی، آٹھ ماہ تک جیل میں تھے مگر انھوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ کیا جیل سے حکومت چلائی جا سکتی ہے؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ڈی ایم کے اس بل کو ’’کالا بل‘‘ کہہ رہی ہے، جب کہ ’’اس کے خود کے کرتوت کالے ہیں۔‘‘
The days of the corrupt, atrocious, and dynastic DMK government are now numbered.
People of Tamil Nadu are resolved to uproot the DMK government and form an NDA government. Glimpses from the ‘Booth Karyakarta Sammelan’ in Tirunelveli. pic.twitter.com/hQPiZl7Qw2
— Amit Shah (@AmitShah) August 22, 2025
2026 میں این ڈی اے حکومت بنانے کا دعویٰ
امت شاہ نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں بی جے پی، اے آئی اے ڈی ایم کے اور دیگر اتحادیوں کی حکومت بنے گی۔ انھوں نے کہا کہ’’ڈی ایم کے ملک کی سب سے بدعنوان حکومت ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کو 18 فیصد اور اے آئی اے ڈی ایم کے کو 21 فیصد ووٹ ملے۔ یعنی مجموعی طور پر این ڈی اے کو 39 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
