دہلی میں جن سنوائی کے دوران ہونے والے حملے کے بعد وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کی پہلی تصویر منظر عام پر آئی ہے۔ اپنے رہائش گاہ پر وزیراعلیٰ ریکھا گپتا بی جے پی کے اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ چائے پیتی ہوئی نظر آئیں۔ بی جے پی ایم پی حارش ملہوترا، منوج تیواری، بانسوری سواراج، پروین کھنڈیلوال وغیرہ ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے سی ایم ہاؤس پہنچے تھے۔ سب کے ساتھ بیٹھ کر ریکھا گپتا نے گفتگو کی۔ تصویر میں وہ صحت مند نظر آ رہی ہیں۔
بی جے پی ایم پی پروین کھنڈیلوال نے تصویر شیئر کی
आज मैंने अपने दिल्ली के सभी साथी सांसदों के साथ दिल्ली की लोकप्रिय मुख्यमंत्री श्रीमती @gupta_rekha जी से भेंट कर उनका कुशलक्षेम जाना।
मुख्यमंत्री जी पूर्णतः स्वस्थ हैं और पहले की तरह दिल्लीवासियों के कार्यों में निरंतर तत्परता से जुटी हुई हैं। pic.twitter.com/lCwFQZiELc
— Praveen Khandelwal (@PKhandelwal_MP) August 21, 2025
بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال بھی وزیراعلیٰ کی خیریت معلوم کرنے کے لیے سی ایم ہاؤس پہنچے۔ انہوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:”آج میں نے اپنے دہلی کے تمام ساتھی اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ دہلی کی مقبول وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ وزیراعلیٰ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور پہلے کی طرح دہلی والوں کے کاموں میں پوری مستعدی سے مصروف ہیں۔”
دہلی کے تمام سات اراکینِ پارلیمنٹ ملاقات کے لیے ساتھ آئے
وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد بی جے پی ایم پی یوگندر چنڈولیہ نے بتایا کہ ریکھا گپتا بالکل ٹھیک ہیں۔ انہوں نے ANI سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:”کل جو واقعہ پیش آیا وہ قابل مذمت ہے۔ جو حملہ آور آیا تھا، اس نے وزیراعلیٰ پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ساتوں اراکینِ پارلیمنٹ ایک ساتھ سی ایم ریکھا گپتا سے ملنے آئے تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ پوری دہلی ان کے ساتھ ہے۔”
ایم پی یوگندر چندولیہ نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بہانے آ کر ایسی حرکت کر سکتا ہے، تو یہ تشویشناک بات ہے۔ اس معاملے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ اس پر کارروائی کرے گی۔ تفتیش کے بعد سب کچھ واضح ہو جائے گا۔
بھارت ایکسریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

