سوشل میڈیا انفلواینسر سندیپا ورک کو ای ڈی نے گرفتار کرلیا ہے۔
سوشل میڈیا پرانفلواینسرسندیپا ورک کوای ڈی نے منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتارکیا ہے۔ ای ڈی نے 12 اور13 اگست، 2025 کودہلی اورممبئی میں کئی مقامات پرچھاپہ ماری کی۔ یہ کارروائی سندیپا ورک اوران کے ساتھیوں کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا حصہ ہے۔ الزام ہے کہ سندیپا ورک نے لوگوں سے جھوٹے وعدے اورغلط معلومات دے کرپیسے لیے اورانہیں گمراہ کیا۔ ای ڈی نے یہ جانچ پنجاب کے ایس اے ایس نگر کے فیز 8 پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پرشروع کی۔ جس میں فراڈ اورغبن کے الزامات لگائے گئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ سندیپا Hybooo Care.com کے نام سے ایک ویب سائٹ چلاتی تھی، جس میں انہوں نے ایف ڈی اے سے منظورشدہ بیوٹی پروڈکٹس فروخت کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن حقیقت میں ویب سائٹ پردکھائے گئے پروڈکٹس موجود ہی نہیں تھے۔
پیسوں کی ہیرا پھیری میں سندیپا کے شامل ہونے کا شک
اس ویب سائٹ پرصارف کی رجسٹریشن کا کوئی آپشن نہیں تھا۔ ادائیگی کے گیٹ وے کے ساتھ مسلسل مسائل تھے. سوشل میڈیا پربہت کم سرگرمی تھی اورواٹس ایپ نمبربھی غیرفعال تھا۔ ای ڈی کوشبہ ہے کہ یہ ویب سائٹ حقیقی کاروبارکے بجائے منی لانڈرنگ کا ذریعہ تھی۔ ویب سائٹ پرمصنوعات کی محدود حد، قیمتوں میں اضافہ، ایف ڈی اے کی جعلی منظوری اورتکنیکی خرابیاں بھی پائی گئی ہیں۔
View this post on Instagram
ریلائنس کیپٹل کے سابق ڈائریکٹرسے کنکشن
تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا کہ سندیپا ورک کا تعلق انگارائی نٹراجن سیٹورامن سے تھا۔ جو پہلے ریلائنس کیپٹل لمیٹڈ کے ڈائریکٹررہ چکے ہیں۔ دونوں کے درمیان غیرقانونی کام سے متعلق بات چیت ہوتی تھی۔ سال 2018 میں، ریلائنس کمرشل فائنانس لمیٹڈ نے بغیرضروری چھان بین کے سیٹورامن کوتقریباً 18 کروڑ روپئے کا قرض دیا۔ اس کے علاوہ کمپنی نے انہیں 22 کروڑ روپئے کا ہوم لون بھی دیا۔ جس میں بہت سے قوانین کو توڑا گیا۔ ان قرضوں کی بڑی رقم ذاتی فائدے کے لیے استعمال کی گئی اورآج تک واپس نہیں کی گئی۔
دو دنوں کی ای ڈی حراست میں بھیجی گئیں سندیپا
چھاپہ ماری میں کئی اہم دستاویز اور ریکارڈ ملے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ اہم لوگوں، جن میں فاروق علی بھی شامل ہیں۔ ان کے بیان درج کئے گئے ہیں۔ ای ڈی نے 12 اگست کوسندیپا کوگرفتارکیا تھا اورعدالت نے ان کو14 اگست تک ای ڈی حراست میں بھیجا ہے۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ جانچ ابھی جاری ہے اورای ڈی کوامید ہے کہ آگے اوربڑے انکشاف ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



