Urdu Conclave 2026

 Gautam Adani: گوتم اڈانی کے امریکی کیس پر بڑا اپڈیٹ، اب بھارتی حکومت سے امریکی SEC مدد مانگ رہی ہے

اڈانی پر الزام ہے کہ اپنی کمپنی کو یہ معاہدہ دلانے کے لیے انہوں نے اور ان کی کمپنی کے دیگر سینئر افسران نے بھارتی حکام کو رشوت دی۔ یہ معاہدہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے کمپنی کو اگلے 20 سالوں میں دو ارب ڈالر سے زیادہ منافع کی امید تھی۔

امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے نیویارک کی ایک عدالت کو بتایا ہے کہ وہ بھارت کی وزارت قانون سے رابطے میں ہے۔ اس رابطے کے ذریعے ارب پتی کاروباری  گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کو نوٹس بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ کیس گزشتہ سال درج کیا گیا تھا، جس میں امریکی SEC نے ان پر اسٹاک مارکیٹ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔

کیا تھا معاملہ؟

SEC نے 11 اگست کو نیویارک کی امریکی ضلعی عدالت کے مجسٹریٹ جج جیمز چو کو بتایا کہ اب تک بھارتی حکام نے اڈانی کو کوئی سمن نہیں بھیجا ہے۔ واضح رہے کہ SEC نے نومبر 2024 میں دونوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے امریکہ میں اپنی ایک کمپنی کو رینیوایبل انرجی کا معاہدہ دلوانے کے لیے 25 کروڑ ڈالر کی رشوت دی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اڈانی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔

اڈانی پر الزام ہے کہ اپنی کمپنی کو یہ معاہدہ دلانے کے لیے انہوں نے اور ان کی کمپنی کے دیگر سینئر افسران نے بھارتی حکام کو رشوت دی۔ یہ معاہدہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے کمپنی کو اگلے 20 سالوں میں دو ارب ڈالر سے زیادہ منافع کی امید تھی۔ 11 اگست کو عدالت میں دی گئی معلومات 27 جون کو ہونے والی سماعت کے دوران دی گئی معلومات سے مماثلت رکھتی ہیں۔

ہیگ سروس کنونشن کے تحت کارروائی

مجسٹریٹ جج جیمز آر چو کو دیے گئے اس نئے اپڈیٹ میں SEC نے کہا ہے کہ وہ ہیگ سروس کنونشن کے اصولوں کے مطابق گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے کو نوٹس بھیجنے کے عمل میں مصروف ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان عدالتی اور غیر عدالتی دستاویزات کے تبادلے کو آسان بنانا ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ غیر ملکی مقدمات میں مدعا علیہان کو نوٹس موصول ہو اور وہ قانونی کارروائی میں شامل ہو سکیں۔

اس کیس میں گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کو تاحال کوئی نوٹس نہیں بھیجا جا سکا ہے کیونکہ امریکی حکام کے پاس کسی غیر ملکی شہری کو براہِ راست سمن بھیجنے کا اختیار نہیں ہے۔ اسی لیے اب بھارتی حکام سے مدد مانگی جا رہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ  بھارتی حکام نے ابھی تک سمن بھیجنے کی امریکی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read