Bharat Express DD Free Dish

SIA raids 8 places in Jammu and Kashmir: جموں و کشمیر میں ایس آئی اے کی 8 مقامات پر چھاپے، یاسین ملک کے گھر پر بھی چھاپہ، جانئے کیا سرلا بھٹ قتل سے جڑا ہے معاملہ ؟

SIA کی ٹیم صبح سویرے سری نگر کے آٹھ مختلف مقامات پر پہنچی۔ پولیس اور CRPF کے جوان بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ اس اچانک کارروائی سے علاقے میں کھلبلی مچ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے سرلا بھٹ قتل کیس کے سلسلے میں اہم سراغ حاصل کرنے کے لیے مارے جا رہے ہیں۔ سرلا بھٹ کا قتل 1990 میں ہوا تھا، اور یہ کیس آج بھی معمہ بنا ہوا ہے۔

جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے 1990 میں کشمیری پنڈت خاتون سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے معاملے میں سری نگر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے ہیں۔ یہ کارروائیاں پولیس اور سی آر پی ایف (CRPF) کی مدد سے انجام دی گئیں۔ شہر بھر میں 8 مقامات پر ایک ساتھ چھاپے مارے گئے جن میں یاسین ملک کا گھر بھی شامل ہے۔

جانئے آخر معاملہ کیا ہے؟

یہ کیس 18 اپریل 1990 کا ہے، جب وادی میں دہشت گردی اپنے عروج پر تھی۔ 27 سالہ سرلا بھٹ، جو ایک کشمیری پنڈت نرس تھیں، سری نگر کے سورہ علاقے میں واقع شیرِ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) میں ملازمت کرتی تھیں۔ انہیں حبہ خاتون ہاسٹل سے اغوا کیا گیا تھا۔ اگلی صبح ان کی لاش سورہ کے ملاباغ علاقے میں عمر کالونی کی سڑک پر گولیوں سے چھلنی حالت میں ملی تھی۔

یہ قتل نگین پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، لیکن اُس وقت کی تفتیش مجرموں تک نہیں پہنچ سکی تھی اور معاملہ بند ہو گیا تھا۔

اب کیا ہو رہا ہے؟

35 سال بعد یہ کیس دوبارہ کھولا گیا ہے، اور ایس آئی اے کی ٹیموں نے اس سلسلے میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ یاسین ملک، جو اس وقت قید ہیں اور علیحدگی پسند رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں، ان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے۔

پس منظر

کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے جاری کوششیں
حکومت انہیں واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن زیادہ تر کشمیری پنڈت برادری، چند امیر افراد کے سوا، آج بھی اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح زندگی گزار رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق SIA کی ٹیم، پولیس اور CRPF کے ساتھ مل کر سری نگر میں آٹھ مقامات پر تلاشی کارروائی انجام دے رہی ہے۔ مزید معلومات کا انتظار ہے۔

معاملہ آج بھی  الجھا ہوا ہے
SIA کی ٹیم صبح سویرے سری نگر کے آٹھ مختلف مقامات پر پہنچی۔ پولیس اور CRPF کے جوان بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ اس اچانک کارروائی سے علاقے میں کھلبلی مچ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے سرلا بھٹ قتل کیس کے سلسلے میں اہم سراغ حاصل کرنے کے لیے مارے جا رہے ہیں۔ سرلا بھٹ کا قتل 1990 میں ہوا تھا، اور یہ کیس آج بھی معمہ بنا ہوا ہے۔

SIA اس کیس کی تہہ تک جانا چاہتی ہے، اور مجرموں کو سزا دلوانا چاہتی ہے۔ ان چھاپوں سے امید ہے کہ کچھ نئی معلومات سامنے آئیں گی، جو تفتیش کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ وادی میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ایک دردناک تاریخ ہے۔ حکومت اب ان کی جائیدادیں واپس دلانے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read