Bharat Express DD Free Dish

New Income Tax Bill 2025: لوک سبھا میں اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان نیا انکم ٹیکس بل 2025 بغیر کسی بحث و مباحثے کے منظور

یہ بل اپوزیشن کی جانب سے بہار میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) پر بحث کے مطالبے کے دوران بغیر بحث کے منظور کیا گیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی مانسون سیشن کے آغاز سے ہی اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگاموں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔

نئی دہلی: لوک سبھا نے پیر کو نیا انکم ٹیکس بل بغیر کسی بحث کے منظور کرلیا، یہ اقدام وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے بل پیش کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔

پس منظر اور پیش قدمی

انکم ٹیکس (نمبر 2) بل 2025 پیر کی دوپہر میں پیش کیا گیا، جب کہ حکومت نے گزشتہ جمعہ کو انکم ٹیکس بل 2025 واپس لے لیا تھا۔ نیا بل تقریباً تمام سفارشات کو شامل کرتا ہے جو اس سلسلے میں سلیکٹ کمیٹی نے پیش کی تھیں۔ حکومت نے جولائی 2024 کے بجٹ میں اعلان کیا تھا کہ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کا مقررہ مدت میں جامع جائزہ لیا جائے گا تاکہ اسے مختصر، واضح اورعام فہم بنایا جا سکے۔

اپوزیشن کا احتجاج اور پارلیمانی تعطل

یہ بل اپوزیشن کی جانب سے بہار میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) پر بحث کے مطالبے کے دوران بغیر بحث کے منظور کیا گیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی مانسون سیشن کے آغاز سے ہی اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگاموں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔

سلیکٹ کمیٹی کا کردار اور سفارشات

حکومت نے 13 فروری 2025 کو انکم ٹیکس بل پیش کیا تھا، جسے جانچ کے لیے بی جے پی رکن بیجینت پانڈا کی سربراہی میں 31 رکنی سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔ کمیٹی نے 21 جولائی 2025 کو اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز بھی شامل کی گئیں تاکہ قانونی معنی کو زیادہ درست انداز میں بیان کیا جا سکے۔ حکومت نے ڈرافٹنگ میں اصلاحات، جملوں کی ہم آہنگی، متعلقہ تبدیلیاں اور کراس ریفرنسنگ کی درستگی کے بعد پرانا بل واپس لے کر نیا انکم ٹیکس (نمبر 2) بل 2025 پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔

پرانے ایکٹ کی جگہ نیا قانون 

یہ نیا بل 1961 کے انکم ٹیکس ایکٹ کی جگہ لے گا، جس میں گزشتہ 64 برسوں میں متعدد ترامیم کی جا چکی ہیں۔ ان ترامیم نے ایکٹ کی بنیادی ساخت کو بوجھل اور زبان کو پیچیدہ بنا دیا تھا، جس سے ٹیکس دہندگان کے لیے عملدرآمد مشکل اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی متاثر ہو رہی تھی۔ بل کے مقاصد اور وجوہات میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان، پریکٹیشنرز اور ٹیکس ایڈمنسٹریٹرز نے بھی پرانے ایکٹ کے پیچیدہ ڈھانچے اور دفعات پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔

دیگر منظور شدہ بل اور ترامیم

لوک سبھا نے ٹیکسیشن لاز (ترمیمی) بل 2025 بھی بغیر بحث کے منظور کرلیا۔ سلیکٹ کمیٹی نے مجموعی طور پر 566 تجاویز و سفارشات پیش کیں، جن میں اہم نکات درج ذیل ہیں:

*   تعریفوں کو مزید سخت اور واضح بنانا تاکہ ابہام دور ہو۔

*   قانونی ڈھانچے کو موجودہ قوانین کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔

*   تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کو ریفنڈ نہ دینے کی شق میں نرمی۔

*   مائیکرو اور اسمال انٹرپرائزز کی تعریف کو ایم ایس ایم ای ایکٹ سے ہم آہنگ کرنا۔

*   غیر منافع بخش اداروں کے لیے ’آمدنی‘ اور ’رسید‘ کی وضاحت، گمنام عطیات کے اصول اور ’مفروضہ استعمال‘ کے تصور کا خاتمہ۔

*   ایڈوانس رولنگ فیس، پروویڈنٹ فنڈ پر ٹی ڈی ایس، کم ٹیکس سرٹیفکیٹ اور جرمانے کے اختیارات سے متعلق وضاحتیں۔

*   کمیٹی کی 4,584 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم اور وضاحتیں ضروری ہیں تاکہ نئے بل کی تعبیر میں کسی قسم کا قانونی تنازع پیدا نہ ہو۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read