بھارتی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے ملزمان سے متعلق سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی تصاویر اور دعوؤں کی تردید کی ہے۔ بھارتی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے ملزمان سے متعلق وائرل شناختی کارڈ اور پاکستانی شہریت کے دعوے سرکاری سطح پر جاری نہیں کیے گئے۔ ترجمان نے زور دے کر کہا کہ افواہوں پر مبنی تصاویر کو سرکاری رپورٹ سمجھنا گمراہ کن ہے۔
یہ وضاحت اس وقت آئی جب ٹویٹر پر دو معروف ہینڈلز – @RealBabananaras اور @pradip103 – نے یکم اور 2 اگست کو ایسی تصاویر شیئر کیں جن میں پاکستان کے قومی شناختی کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور نادرا دستاویزات کو حملے سے جوڑا گیا تھا۔ ان ٹوئیٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی ایجنسیوں نے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تین پاکستانی لشکر طیبہ کمانڈروں کی شناخت کر لی ہے۔
🚨 Social media accounts are spreading a Report on the Identities and Background of the Pahalgam Attackers’.
▶️ No authorised media handle of the Armed Forces has prepared or issued any such document.
▶️ No remarks of this nature have been made by the Armed Forces Public… pic.twitter.com/7UphgDvi3a
— HQ IDS (@HQ_IDS_India) August 4, 2025
وائرل تصاویر کا پس منظر
دونوں وائرل تصاویر میں پاکستان کے قومی شناختی کارڈ اور ایک تحریری نوٹ دکھایا گیا ہے جسے حملہ آوروں سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان تصاویر کو 22 اپریل 2025 کو پہلگام کے بیسرن وادی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سے جوڑا گیا، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس نوعیت کے حساس شواہد صرف وزارت داخلہ یا این آئی اے کی تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد جاری کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے۔
پروفیشنل رپورٹ اور سوشل میڈیا کے تضادات
دلچسپ امر یہ ہے کہ 28-29 جولائی کو بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلی رپورٹ میں واقعی تین پاکستانی شہریوں کی شناخت اور ان کی لشکر طیبہ سے وابستگی کی تفصیلات درج ہیں۔ تاہم، اس رپورٹ میں جو شواہد دیے گئے ہیں (جیسے نادرا اسمارٹ چپ، ووٹر آئی ڈی اور ڈی این اے رپورٹ)، وہ خفیہ تحقیقات کا حصہ تھے اور انہیں میڈیا یا سوشل میڈیا کے ذریعے عام نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے برخلاف، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں جن شناختی کارڈز کو دکھایا گیا ہے ان کی صداقت کی تصدیق نہ تو کسی سرکاری ایجنسی نے کی ہے اور نہ ہی وہ رپورٹ کا حصہ ہیں۔
وزیرداخلہ کا پارلیمنٹ میں بیان
پہلگام میں 22 اپریل کو سیاحوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد اور قومی سلامتی پر وزیر داخلہ امت شاہ کے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان نے اس واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کی تصدیق تھی۔ وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملے میں شامل تینوں دہشت گرد، جنہیں حال ہی میں سری میں مارا گیا پاکستان کے شہری تھے۔ ان کی شناخت سلیمان عرف فیضل جٹ، افغان اور جبران کے طور پر کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق دو دہشت گردوں کے پاس پاکستانی ووٹر نمبر تھے اور ان کے قبضے سے پاکستانی ساختہ چاکلیٹس برآمد ہوئے۔ وزیر داخلہ کے اسی بیان کو بنیاد بنا کر مذکورہ خبر کو وائرل کیا گیا ہے جس کی وضاحت ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی ہے۔
بھارتی افواج کا محتاط موقف
ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ’’ہم سوشل میڈیا پر چل رہی ان خبروں اور تصاویر کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں جو پہلگام حملے کے ملزمان سے متعلق حساس معلومات کو بغیر کسی تصدیق کے عام کر رہی ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ صرف سرکاری ذرائع پر یقین کریں۔‘‘
ہوشیار رہیں، تصدیق کریں
سوشل میڈیا پر آنے والی معلومات کو بغیر تحقیق اور سرکاری تائید کے قبول کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے نازک اور قومی سلامتی سے جڑے معاملات میں۔ پہلگام حملے کی تحقیقات جاری ہیں، صرف وزارت داخلہ یا نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی جانب سے جاری رپورٹ ہی مستند ذریعہ ہے۔ عوام، میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو پھیلانے سے گریز کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


