سابق مرکزی وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم۔
نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے الیکشن کمیشن پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے بہار اور تمل ناڈو کے درمیان ووٹر لسٹ سے متعلق پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
’’ایس آئی آر کا عمل اب اور بھی پراسرار‘‘
چدمبرم نے لکھا، ’’اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا عمل اب اور بھی پراسرار ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف، بہار میں 65 لاکھ ووٹرز کو ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے کا خطرہ ہے، وہیں تمل ناڈو میں 6.5 لاکھ نئے لوگوں کو بطور ووٹر شامل کرنا انتہائی تشویشناک اور واضح طور پر غیر قانونی ہے۔‘‘
تمل ناڈو کے لوگوں کے جمہوری حقوق میں مداخلت
انہوں نے الزام لگایا کہ ان لوگوں کو مستقل طور پر نقل مکانی کرنے والا بتایا جا رہا ہے جو نہ صرف مہاجر مزدوروں کی توہین ہے بلکہ تمل ناڈو کے لوگوں کے جمہوری حقوق میں بھی براہ راست مداخلت ہے۔
’’تمل ناڈو کا رہائشی کیسے مانا جا سکتا ہے‘‘
کانگریس لیڈر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک مہاجر مزدور بہار (یا اپنی آبائی ریاست) واپس آ کر اسمبلی انتخابات میں ووٹ کیوں نہیں ڈال سکتا، جب عام طور پر چھٹھ پوجا جیسے تہواروں پر وہ گھر لوٹتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کے لیے، کسی شخص کے پاس ایک مقررہ اور قانونی مستقل رہائش ہونا چاہئے اگر مہاجر مزدور کا خاندان بہار میں رہتا ہے اور اس کا مستقل گھر وہیں ہے، تو اسے تمل ناڈو کا مستقل رہائشی کیسے مانا جا سکتا ہے؟‘‘
انتخابی پیٹرن کو تبدیل کرنے کی کوشش
اسے الیکشن کمیشن کے ذریعہ اقتدار کا صریح غلط استعمال قرار دیتے ہوئے چدمبرم نے الزام لگایا کہ کمیشن ریاستوں کے انتخابی کردار اور پیٹرن کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقتدار کا سنگین غلط استعمال ہے اور اسے سیاسی اور قانونی سطح پر چیلنج کیا جانا چاہئے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


