نئی دہلی: اگر ہندوستان روسی تیل کی خریداری بند کر دے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 200 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر کے صارفین کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو ذرائع نے یہ جانکاری دی ہے۔ ذرائع کے مطابق روسی تیل پر کبھی بھی امریکہ یا یورپی یونین کی جانب سے پابندی نہیں لگائی گئی، بلکہ اس پر G7/EU کا قیمت حد بندی (price-cap) میکانزم نافذ کیا گیا ہے، تاکہ روسی آمدنی محدود ہو لیکن عالمی رسد برقرار رہے۔
روس دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ
روس دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ بھی ہے جو روزانہ تقریباً 9.5 ملین بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے اور عالمی مانگ کا تقریباً 10 فیصد پورا کرتا ہے۔ وہ یومیہ 4.5 ملین بیرل خام تیل اور 2.3 ملین بیرل ریفائنڈ مصنوعات دنیا بھر کو برآمد کرتا ہے۔ مارچ 2022 میں جب خدشہ پیدا ہوا تھا کہ روسی تیل عالمی منڈی سے باہر ہوجائے گا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 137 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔
توانائی پالیسی میں تبدیلی
ذرائع نے کہا کہ ایسے چیلنج بھرے ماحول میں جب ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا توانائی صارف ہے اور 85 فیصد درآمدی انحصار رکھتا ہے، تو اس نے اپنی توانائی پالیسی میں حکمت عملی سے تبدیلی کی تاکہ سستی توانائی حاصل کی جا سکے اور وہ بھی بین الاقوامی ضوابط کی مکمل پابندی کے ساتھ۔۔
ٹرمپ کے دعوے کو ہندوستان نے مسترد کیا
گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان روسی تیل کی خرید بند کرنے جا رہا ہے اور اسے ایک ’اچھا قدم‘ قرار دیا، تاہم ہندوستانی ذرائع نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی زیرانتظام بھارتی ریفائنریاں تجارتی بنیاد پر روسی تیل خریدنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ اگر ہندوستانی ریفائنریوں نے رعایتی روسی تیل نہ خریدا ہوتا اور اس کے ساتھ ساتھ OPEC+ کی جانب سے 5.86 ملین بیرل یومیہ کی کٹوتی بھی جاری رہتی، تو خام تیل کی عالمی قیمتیں مارچ 2022 کے 137 ڈالر فی بیرل کے ریکارڈ کو عبور کر چکی ہوتیں، جس سے عالمی افراطِ زر میں شدید اضافہ ہوتا۔ ہندوستان نے نہ صرف امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی اور وینزویلا کے تیل کی خرید سے گریز کیا، بلکہ امریکہ کی مقرر کردہ 60 ڈالر فی بیرل قیمت حد کی بھی مکمل پاسداری کی۔ یورپی یونین نے حال ہی میں روسی تیل کے لیے قیمت کی نئی حد 47.6 ڈالر مقرر کی ہے، جو ستمبر سے نافذ ہوگی۔
ہندوستان کی توانائی پالیسی قومی مفاد پر مبنی
یورپ کی توانائی پالیسی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ یورپی یونین روسی مائع قدرتی گیس (LNG) کی سب سے بڑی خریدار ہے، جو روس کی کل LNG برآمدات کا 51 فیصد خریدتی ہے۔ چین 21 فیصد اور جاپان 18 فیصد کے ساتھ اس کے بعد آتے ہیں۔ پائپ لائن گیس کی صورت میں بھی یورپی یونین 37 فیصد خریداری کے ساتھ سب سے آگے ہے، جب کہ چین 30 اور ترکی 27 فیصد کے ساتھ پیچھے ہیں۔ ذرائع نے زور دیا کہ ہندوستان کی توانائی پالیسی اس کے قومی مفاد پر مبنی ہے اور اس کا مقصد صرف ملک کے لیے نہیں بلکہ عالمی توانائی منڈی کے توازن کے لیے بھی اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہندوستان کے حقیقت پسندانہ فیصلوں نے نہ صرف عالمی منڈی میں استحکام قائم رکھا بلکہ قیمتوں کو بھی قابو میں رکھا اور مکمل طور پر بین الاقوامی ضابطوں کی پاسداری کرتے ہوئے توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




