نئی دہلی: بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں تمام ساتوں ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کانگریس کی ہندو دہشت گردی کی سازش کا اختتام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کو کانگریس نے ووٹ بینک کی سیاست کے لیے استعمال کیا تھا، لیکن عدالت کے حالیہ فیصلے نے سچ کو اجاگر کر دیا ہے۔
بھگوا دہشت گردی ایک جھوٹا بیانیہ تھا
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس فیصلے سے کانگریس کی بھگوا دہشت گردی کی سازش کا بیانیہ پوری طرح ختم ہوگیا۔ ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ کرنل پروہت، جنہوں نے کشمیر میں دہشت گردوں سے لڑائی لڑی ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر پر موٹرسائیکل کے ذریعے دھماکہ کرنے کا الزام لگایا گیا اور انہیں اتنا تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ کانگریس نے محض ووٹ بینک کے لیے کیا تھا۔ آج عدالت کے فیصلے سے سچ کی جیت ہوئی ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
بھگوا اور ہندوتوا کی جیت ہوئی: سادھوی پرگیہ
سابق رکن پارلیمان سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے بھی این آئی اے کی خصوصی عدالت کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھگوا اور ہندوتوا کی جیت ہوئی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اصلی مجرموں کو سزا ضرور ملے گی۔
تمام دہشت گردوں کا ایک ہی مذہب ہے
بی جے پی کے رکن پارلیمان نشی کانت دوبے نے راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ایک بھی ہندو دہشت گرد نہیں ہے۔ تمام دہشت گردوں کا ایک ہی مذہب ہے۔ کانگریس نے زعفرانی دہشت گردی جیسا گھناؤنا بیانیہ گھڑا تھا، لیکن اب سب کچھ صاف ہو چکا ہے۔ کانگریس کو اس کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ انہوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ پاکستانی دہشت گردوں کو پکڑنے کے بجائے اپنے ہی ملک کے بے گناہوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟
مالیگاؤں دھماکہ کیس
29 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں ایک موٹر سائیکل پر نصب بم کے دھماکے میں 6 افراد جاں بحق اور 95 زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد 11 افراد کو ملزم بنایا گیا، تاہم عدالت نے صرف 7 کے خلاف فردِ جرم عائد کی۔ کیس کو 2011 میں مہاراشٹر اے ٹی ایس سے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو منتقل کیا گیا تھا۔ 17 سال کے طویل عدالتی عمل، سیکڑوں گواہوں کے بیانات اور ثبوتوں کی جانچ کے بعد عدالت نے فیصلہ دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا تمام سات ملزمان کو بری کر دیا گیا۔
سیاسی و سماجی ردعمل
عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ بی جے پی نے اسے سچ کی جیت قرار دیا ہے جبکہ کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں فیصلے کے وقت، اس کے اثرات اور حکومت کے رول پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ اس فیصلے کے پس منظر میں امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف جیسے عالمی مسائل پر بھی سیاست تیز ہوتی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



