وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں شروع کیے گئے آپریشن سندور سمیت فوج کی کارروائیوں کی مخالفت کے لیے نئے نئے ’’بہانے‘‘ تلاش رہی ہے۔ وزیر اعظم نے لوک سبھا میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران کہا کہ پورا ملک اپوزیشن پر ’’ہنس‘‘ رہا ہے۔
پی ایم مودی نے خاص طور پر کانگریس کو نشانہ بنایا اور کہا کہ مسلح افواج کی مخالفت کرنا کانگریس پارٹی کا پرانا رویہ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’دہشت گرد رو رہے ہیں، ان کے ماسٹر مائنڈ رو رہے ہیں اور انھیں روتے ہوئے دیکھ کر کچھ لوگ یہاں بھی رو رہے ہیں۔ انھوں نے سرجیکل اسٹرائیک کے دوران ایک گیم کھیلنے کی کوشش کی، وہ کامیاب نہیں ہوا۔ ائیر اسٹرائیک کے دوران انھوں نے دوسرا گیم کھیلنے کی کوشش کی، وہ بھی کام نہیں آیا۔ اور جب آپریشن سندور ہوا تو انھوں نے کہا کہ اسے روک کیوں دیا۔ واہ رے بیان بہادرو! پورا ملک آپ پر ہنس رہا ہے۔‘‘
#WATCH | Operation Sindoor | PM Narendra Modi says, “I have said this earlier too that India is a land of ‘Buddha’, not yuddha (war). We want prosperity and peace. But we should never forget that the path to prosperity and peace passes through strength…” pic.twitter.com/iNXWCuJng3
— ANI (@ANI) July 29, 2025
انھوں نے واضح کیا کہ ہندوستان ہمیشہ امن چاہتا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا ’’میں یہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہندوستان ’بدھ‘ کی سرزمین ہے، نہ کہ یدھ کی۔ ہم خوش حالی اور امن چاہتے ہیں۔‘‘ وہیں پی چدمبرم کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس پر اپنے حملے کو مزید تیز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس بات کا ثبوت مانگنے کی ہمت کرتے ہیں کہ پہلگام حملہ آور پاکستان سے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مسلح افواج کی مخالفت، مسلح افواج کے لیے منفی سوچ کانگریس کا پرانا رویہ رہا ہے… پاکستان کے تمام بیانات اور ان لوگوں کے بیانات جو یہاں ہماری مخالفت کر رہے ہیں، فل سٹاپ اور کوما کے ساتھ بالکل ایک جیسے ہیں… ملک حیران ہے کہ کانگریس نے پاکستان کو کلین چٹ دی ہے، وہ ثبوت مانگنے کی جرات کر رہے ہیں کہ پہلگام حملہ کرنے والے پاکستان کے تھے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


