Urdu Conclave 2026

America’s role in Operation Sindoor? آپریشن سندور میں امریکہ کے کردار پر وزیر خارجہ نے خاموشی کیوں اختیار کی؟ پرینکا گاندھی کا پارلیمنٹ میں حکومت سے سخت سوال

’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے امریکہ کے مبینہ کردار پر حکومت کی خاموشی اپوزیشن کی تنقید کا نیا مرکز بن گئی ہے۔ پرینکا گاندھی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں نے واضح سوالات اٹھائے ہیں، جن کا عوام اور پارلیمنٹ دونوں کو جواب درکار ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ  کیا حکومت امریکی دعووں کا باضابطہ انکار کرے گی؟ یا خاموشی کو ہی سفارتی حکمت عملی مانا جائے گا؟

نئی دہلی: لوک سبھا میں آپریشن سندور پر جاری 16 گھنٹے کی خصوصی بحث کے دوران ایک نیا سیاسی محاذ کھل گیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر پر سخت سوال اٹھایا کہ آخر انہوں نے امریکہ کے مبینہ ثالثی کردار پر خاموشی کیوں اختیار کی؟

وزیر خارجہ کا بیان اور پرینکا کا ردعمل

پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ 22 اپریل سے 17 جون تک وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اس پر پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیر خارجہ نے یہ تو بتایا کہ فون پر بات نہیں ہوئی، مگر یہ نہیں بتایا کہ ’جنگ بندی‘ میں امریکہ کا کردار کیا تھا؟ کیا واقعی امریکہ نے کوئی دباؤ یا ثالثی کی؟ یا یہ سب صرف امریکی پروپیگنڈہ تھا؟

’کئی باتیں ابھی بھی غیر واضح ہیں‘

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا وزیر خارجہ نے محض ایک تکنیکی بات کہی، کہ بات چیت نہیں ہوئی، مگر امریکہ کے مسلسل دعووں پر کوئی واضح ردعمل نہیں دیا۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور ملک کو اعتماد میں لے۔

ٹرمپ کے دعوے اور اپوزیشن کا حملہ

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کی، اور تجارتی دباؤ کے ذریعہ بات بنوائی۔  کانگریس لیڈر دیپیندر ہڈا نے بحث کے دوران کہا کہ ’’ڈونالڈ ٹرمپ نے 28 بار دعویٰ کیا کہ انھوں نے مداخلت کی۔ وہ ہندوستانی جنگی طیاروں، کشمیر تنازع اور تجارت پر تبصرہ کر رہے ہیں۔ مگر وزیر اعظم مودی نے ایک بار بھی ان دعوؤں کی کھلی تردید نہیں کی۔‘‘

’یا ہاتھ ملاؤ، یا ہاتھ دکھاؤ‘

قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں ’آپریشن سندور‘ پر بحث کے لیے 16 گھنٹے کا وقت مقرر کیا ہے۔ یعنی آج شروع ہوئی بحث کل بھی جاری رہے گی۔ آج مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بحث کی شروعات کی اور آپریشن سندور کو ہر سطح پر کامیاب قرار دیا۔ اپوزیشن کی طرف سے گورو گگوئی، کلیان بنرجی، پرنیتی شندے، دیپیندر ہڈا وغیرہ نے مودی حکومت کے سامنے کئی سوال رکھے اور ان کا واضح جواب دینے کے لیے کہا۔ ہڈا نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ’’امریکہ جس طرح پاکستان کو ہندوستان کے برابر لا رہا ہے، وہ ناقابلِ قبول ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا — یا امریکہ سے دوستی نبھاؤ، یا اُس کے کاروباری ادارے بند کرواؤ۔ ’میک ڈونالڈس‘ بھی چل رہا ہے، اور ہم خاموش بھی ہیں، یہ تضاد نہیں چل سکتا۔‘‘

’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے امریکہ کے مبینہ کردار پر حکومت کی خاموشی اپوزیشن کی تنقید کا نیا مرکز بن گئی ہے۔ پرینکا گاندھی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں نے واضح سوالات اٹھائے ہیں، جن کا عوام اور پارلیمنٹ دونوں کو جواب درکار ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ  کیا حکومت امریکی دعووں کا باضابطہ انکار کرے گی؟ یا خاموشی کو ہی سفارتی حکمت عملی مانا جائے گا؟

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read