سابق مرکزی وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم۔
مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں آج پیر، 29 جولائی کو پہلگام دہشت گرد حملہ اور آپریشن سندور پر بحث شروع ہوگی۔ حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں اپنے سرفہرست رہنماؤں کو میدان میں اتارنے کی تیاری میں ہیں، وہیں بحث سے پہلے ہی کئی سیاسی اشارے اور ٹکراؤ زیرِ بحث آ چکے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ اور کانگریس کے رہنما پی. چدمبرم نے ‘دی کوئنٹ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے کہا، “وہ (NIA) یہ بتانے کو تیار نہیں ہیں کہ ان ہفتوں میں انہوں نے کیا کیا ہے۔ کیا انہوں نے دہشت گردوں کی شناخت کی ہے؟ یا یہ معلوم کیا ہے کہ وہ کہاں سے آئے تھے؟ کیا پتا، وہ ملک کے ہی دہشت گرد ہوں۔ آپ کیوں مان رہے ہیں کہ وہ پاکستان سے آئے تھے؟ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔”
ششی تھرور کی خاموشی پھر زیرِ بحث
کانگریس ذرائع کے مطابق ششی تھرور ممکنہ طور پر آج کی بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ انہوں نے تاحال پارٹی کے CPP دفتر کو بولنے کے لیے کوئی رسمی اطلاع نہیں دی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ تھرور نے حال ہی میں امریکہ اور دیگر ممالک میں بھارت-پاکستان مسئلے پر حکومت کے موقف کی حمایت کی تھی، جو کانگریس کی سرکاری لائن سے مختلف سمجھی گئی۔ اس سے ان کے اور پارٹی کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
حکومت کی جانب سے کون پیش کرے گا موقف؟
وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر حکومت کی طرف سے مرکزی مقرر ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس بحث میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
حزبِ اختلاف کی طرف سے کون کریں گے بحث؟
اگر صدر کی اجازت ملتی ہے تو حزبِ اختلاف کی طرف سے بحث کی شروعات راہل گاندھی کر سکتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے پہلے بھی کئی بار بحث کا آغاز اپنے ساتھیوں کو دیا ہے، جیسا کہ 2023 میں عدم اعتماد کی تحریک کے دوران کیا تھا۔
بحث کا موضوع کیا ہوگا؟
اس 16 گھنٹے طویل بحث کا مرکز 22 اپریل کو ہوئے پہلگام حملے پر حکومت کا ردعمل اور آپریشن سندور کی شفافیت ہوگا۔ اس حملے میں 26 شہریوں کی جان گئی تھی۔ حزبِ اختلاف نے حکومت پر انٹیلیجنس کی ناکامی کا الزام لگایا ہے اور یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ بھارت کو بین الاقوامی حمایت کیوں نہیں مل پا رہی، خاص طور پر جب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت-پاکستان کے درمیان ثالثی کا دعویٰ کیا تھا، جسے بھارت نے مسترد کر دیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
