بہار میں لا اینڈ آرڈر پر چراغ پاسوان ہوئے برہم
پٹنہ: این ڈی اے کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے صدر اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے بہار میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مجرمانہ واقعات کا سلسلہ جاری ہے اور انتظامیہ مجرموں کے سامنے پوری طرح جھکتی نظر آ رہی ہے۔
واردات کو روکنے میں ناکام ہے انتظامیہ
چراغ پاسوان نے پٹنہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ان واقعات پر کارروائی بھی ہوئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں؟ اب ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ ان واقعات کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں اس سے ریاست کے لیے انتہائی خوفناک صورتحال پیدا ہو جائے گی۔
چراغ پاسوان کو انتظامیہ کی ملی بھگت کا شبہ
انہوں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ یہ واقعات حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کے تحت کیے جا رہے ہیں تو اس پر قابو پانے کی ذمہ داری بھی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے انتظامیہ کی ملی بھگت کا امکان بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے بہار حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم اس پر بروقت کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے دکھ ہے کہ میں ایسی حکومت کی حمایت کر رہا ہوں، جہاں جرائم مکمل طور پر بے لگام ہو چکے ہیں، اس پر قابو پانا ضروری ہے۔
یہ س صرف دھمکیاں دیتے ہیں: چراغ پاسوان
ووٹروں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے انتخابات کے بائیکاٹ پر مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ اگر ہمت ہے تو ایک بار یہ لوگ بائیکاٹ کر کے دکھائیں۔ آر جے ڈی ایسی سیاسی پارٹی ہے جس میں اکیلے الیکشن لڑنے کی ہمت نہیں ہے، بائیکاٹ کیا کریں گے؟ کانگریس اتحاد میں سب سے پرانی پارٹی ہے۔ وہ بھی اکیلے الیکشن نہیں لڑ سکتی۔ یہ سب لوگ صرف دھمکیاں دینے کا کام کر رہے ہیں۔
’’ثبوت ہے تو دکھاؤ، صرف ہنگامہ کر رہے ہیں‘‘
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ڈرا دھمکا کر ووٹ حاصل کرنے کی عادت ہو گئی ہے۔ اسی طرح لوک سبھا میں ریزرویشن ختم ہونے اور آئین ختم ہونے کا خوف پھیلایا گیا۔ آئین کہاں ختم ہوا؟ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے حوالے سے یہ لوگ ڈرا رہے ہیں۔ اگر ثبوت ہے تو دکھاؤ۔ وہ صرف ہنگامہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی درانداز ہمارے ملک میں ووٹ کا حق استعمال کرے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اور کسی ووٹر کا نام بھی نہیں حذف ہوگا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

