Bharat Express DD Free Dish

Lok Janshakti Party

چراغ پاسوان نے آر جے ڈی اور کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو پارٹیاں اپنا اتحاد نہیں سنبھال سکتیں، وہ بہار جیسے بڑی اور حساس ریاست کو کیسے ایک ساتھ رکھ پائیں گی؟

مرکزی وزیر اور لوک جنشکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ چراغ پاسوان نے بہار اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے تمام امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس انتخاب میں انہوں نے راجپوت اور یادو ذات کے پانچ پانچ امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

ووٹروں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے انتخابات کے بائیکاٹ پر مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ اگر ہمت ہے تو ایک بار یہ لوگ بائیکاٹ کر کے دکھائیں۔ آر جے ڈی ایسی سیاسی پارٹی ہے جس میں اکیلے الیکشن لڑنے کی ہمت نہیں ہے، بائیکاٹ کیا کریں گے؟

چراغ پاسوان نے چھپرا میں منعقد ’نو سنکلپ مہاسبھا‘ سے خطاب کرتے ہوئے بہار کی تمام سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ بہار آتے ہیں اور الیکشن لڑنے کی بات کرتے ہیں تو کئی لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کتنی سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے۔ ایسے میں آج میں اعلان کرتا ہوں کہ میں بہار کی تمام 243 سیٹوں پر الیکشن لڑوں گا۔

دہلی اسمبلی الیکشن میں بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کو ہراکر اکثریت حاصل کی ہے، لیکن این ڈی اے کی اتحادی جماعت نتیش کمار کی پارٹی اور چراغ پاسوان کی پارٹی کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے۔

جمئی سیٹ سے رکن پارلیمنٹ ارون بھارتی نے میڈیا سے کہا تھا کہ این ڈی اے سے ہمارا الائنس صرف بہارالیکشن اورلوک سبھا الیکشن سے متعلق ہے۔

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چراغ پاسوان نے جے ڈی یو میں شامل ہونے والے بہار کے واحد ایل جے پی ایم ایل اے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں 2020 کے اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنا  پڑا تھا۔ اسی دوران ہمارے والد کا انتقال ہوگیا۔

سڑک پر زخمی شخص کو دیکھ کر چراغ نے اپنی گاڑی روک دی۔ وہ اس شخص کے پاس پہنچے جو زخمی حالت میں گرا ہوا تھا۔ نوجوان کی جسم خون میں لت پت تھی۔ چراغ کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی مدد کے لیے آگے آئے۔

چراغ پاسوان کے والد رام ولاس پاسوان متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) -1 حکومت میں کابینہ کے وزیر تھے اور 2014 کے لوک سبھا انتخابات تک کانگریس کے اتحادی تھے۔