بہار کے سابق وزیر اور تین بار کے رکن پارلیمان جناردن سنگھ سگریوال نے پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں بہار ریاستی اعلیٰ ذات کمیشن کے نومنتخب رکن راج کمار سنگھ کے اعزاز میں منعقدہ ایک باوقار تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ذات اور مذہب کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرکے ملک کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ تمام طبقات کی فلاح کے لیے بغیر کسی تفریق کے اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔‘‘ یہ تقریب آل انڈیا کشتریہ مہاسبھا، بھارتی شرم جیوی پترکار سنگھ اور سہیوگ وژن انڈیا کے زیرِ اہتمام مشترکہ طور پر منعقد کی گئی تھی۔
جناردن سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ای ڈبلیو ایس (EWS) زمرے کے تحت اعلیٰ ذاتوں کے معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے ریزرویشن نافذ کر کے ایک تاریخی سماجی انقلاب کی بنیاد رکھی ہے، جس سے لاکھوں ضرورت مند خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کچھ سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی بعض پارٹیاں بہار میں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر سیاست کر کے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔
تعلیم کا گرتا ہوا معیار تشویش ناک: پروفیسر جے ایس راجپوت
تقریب سے مشہور ماہر تعلیم اور سابق ڈائریکٹر این سی ای آر ٹی پدم شری پروفیسر جے ایس راجپوت نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار صدیوں سے علم و فکر کا مرکز رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں یہاں تعلیمی زوال کی صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ بھارت سرکار کی اعلیٰ تعلیم شاخ میں جوائنٹ سکریٹری تھے تو انھیں بہار کے تعلیمی اداروں کا معائنہ کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران انھیں یہ جان کر شدید افسوس ہوا کہ کئی اداروں میں بغیر کلاس لیے، صرف پیسے کے عوض ڈگریاں بانٹی جا رہی تھیں، جو تعلیمی نظام کو جڑ سے کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ راج کمار سنگھ جیسے سماج کے لیے وقف فرد کو اعلیٰ ذات کمیشن کا رکن بنانا ایک اہم موقع ہے تاکہ وہ تعلیمی اور معاشی اصلاحات کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کمیشن کو ’’کمیشن برائے خیرسگالی‘‘ کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ یہ کمیشن کسی مخصوص ذات یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے سماج کا نمائندہ ادارہ ہے۔ دریں اثنا پروفیسر راجپوت نے 1976 میں آئین ہند کی دیباچہ میں ’’سوشلسٹ‘‘ اور ’’سیکولر‘‘ جیسے الفاظ شامل کیے جانے پر بھی اعتراض ظاہر کیا اور کہا کہ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین سازی کے دوران ان الفاظ کو شامل نہ کرنے کی واضح دلیل دی تھی۔ اس لیے بعد میں انھیں شامل کرنا بابا صاحب سے فکری انحراف ہے۔
عوامی فلاح کے لیے وقف ہوں: راج کمار سنگھ
اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راج کمار سنگھ نے تینوں تنظیموں کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ کمیشن کی ذمہ داری سنبھالتے ہی انھوں نے بہار کے مختلف ڈویژنز (پرمنڈل) کا دورہ شروع کر دیا ہے۔ اب تک وہ تین پرمنڈل کا تفصیلی جائزہ لے چکے ہیں، جہاں انھوں نے اعلیٰ ذات کے طبقات کی تعلیمی، اقتصادی اور سماجی صورت حال پر مبنی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جلد ہی تمام علاقوں کا مطالعہ مکمل کر کے ایک جامع رپورٹ حکومتِ بہار کو پیش کریں گے، جس میں ضروری سفارشات بھی شامل ہوں گی۔ راج کمار سنگھ نے ریاست میں طلبا کے ہاسٹل کی بدحالی پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس کے فوری حل کی اپیل کی۔
سیاسی طور پر نظرانداز کیے جانے نے سماجی ڈھانچے کو متاثر کیا: سنجے سنگھ
اس دوران بھارتی شرم جیوی پترکار سنگھ کے قومی صدر شری سنجے سنگھ نے کہا کہ موجودہ سیاست نے اعلیٰ ذات کے طبقات کو حاشیے پر پہنچا دیا ہے، جس کے باعث خاندانی اور سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔
راج کمار سنگھ، سماجی ہم آہنگی کی علامت ہیں: ڈاکٹر ایم رحمت اللہ
اس موقع پر سہیوگ وژن انڈیا کے جنرل سیکرٹری اور سینئر صحافی ڈاکٹر ایم رحمت اللہ نے راج کمار سنگھ کی شخصیت، خاندانی پس منظر اور سماجی خدمات کا جامع تعارف پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اعلیٰ ذات کمیشن کا رکن ہونا راج کمار جی کے لیے ایک چھوٹا منصب ہے، ان میں پارلیمانی سطح کی سیاسی صلاحیت اور بصیرت موجود ہے۔‘‘ ڈاکٹر رحمت اللہ نے مزید کہا کہ راج کمار سنگھ ایک ایسے لیڈر ہیں جو ذات اور مذہب سے بالا تر سوچ رکھتے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو چاہیے کہ وہ انھیں زیادہ بڑے کردار میں سامنے لائے تاکہ سماج کو بہتر قیادت فراہم کی جا سکے۔
تقریب کی صدارت و اہم شخصیات کی شرکت
اس تقریب کی صدارت آل انڈیا کشٹریہ مہاسبھا کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر شولپانی سنگھ نے کی، جب کہ نظامت سینئر صحافی شری کانت بھاٹیہ نے انجام دی۔ اس موقع پر بی جے پی مہیلا مورچہ بہار کی ترجمان ریما سنگھ، طارق رضا، ابھے سنہا، ایڈووکیٹ ارون کمار سنگھ، پروفیسر بی کے سنگھ، ڈاکٹر روپیش چوہان، ارون سنگھ، سبھاش چندر کھنہ، پروفیسر چندر موہن نیگی، ڈاکٹر انوراگ پاتھک، ایڈووکیٹ ابھیشیک سنگھ تومر سمیت بڑی تعداد میں دانشور، وکلا، سماجی کارکنان اور صحافی موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


