مذہب کو تبدیل کرنا کوئی “مذہبی آزادی” نہیں،
یہ بھارت کے وجود پر حملہ ہے…
اتر پردیش میں جمال الدین عرف چھانگور بابا کے غیر قانونی مذہبی تبدیلی گینگ کے بعد، آگرہ میں داعش (ISIS) ماڈیول پر کام کرنے والے ایک گینگ کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔
@Uppolice نے “مشن اسمیتا” کے تحت 24 مارچ کو آگرہ سے لاپتہ ہونے والی دو سگی بہنوں کو کولکاتا جا کر بازیاب کرایا، اور غیر قانونی مذہبی تبدیلی گینگ کے 10 ارکان کو گرفتار کیا۔
چھانگور بابا نے تقریباً 5,000 ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروایا، سیکڑوں کروڑ کا غیر قانونی نیٹ ورک قائم کیا، اور ذات پات کی بنیاد پر ہندو لڑکیوں کی قیمتیں طے کر رکھی تھیں…
جو لوگ The Kerala Story پر انگلی اٹھاتے تھے، انہیں ان واقعات کو دیکھنا اور ان سے سبق لینا چاہیے۔
“لو جہاد” کوئی افسانہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی جلتی ہوئی حقیقت ہے!
बेटियों की अस्मत और आस्था के सौदागरों पर, देश की तथाकथित सेक्युलर पार्टियों की चुप्पी क्यों?
धर्मांतरण कोई ‘धार्मिक स्वतंत्रता’ नहीं,
ये भारत के ‘अस्तित्व’ पर हमला है …उत्तर प्रदेश में जमालुद्दीन उर्फ छांगुर बाबा के अवैध धर्मांतरण गिरोह के बाद, आगरा में ISIS Module पर काम…
— Rajeshwar Singh (@RajeshwarS73) July 20, 2025
غیر قانونی مذہبی تبدیلی کیوں خطرناک ہے؟
- یہ فرد کے عقیدے پر نہیں، معاشرتی استحکام پر حملہ ہے۔
- بہلا پھسلا کر، ڈرا دھمکا کر یا شادی کے نام پر جبراً مذہب تبدیل کرنا ایک ثقافتی حملہ ہے۔
- یہ گینگ نہ صرف مذہب تبدیل کروا رہے ہیں، بلکہ بیٹیوں کو بیچ رہے ہیں اور شدت پسند تنظیموں سے جوڑ رہے ہیں۔
- یہ بھارت کی تنوع، یکجہتی اور سماجی ڈھانچے کو توڑنے کی ایک منظم سازش ہے۔
یہ کوئی عام جرم نہیں،
بلکہ ملک دشمن سازش ہے!
سب سے بڑا سوال:
سماجواد (سوشلسٹ) کا دعویٰ کرنے والی سماجوادی پارٹی، اور سیکولرازم کا جھنڈا اٹھانے والی کانگریس ان واقعات پر خاموش کیوں ہیں؟
کیا ہندو بیٹیوں کی زندگی ان کی سیاست سے کم قیمتی ہے؟
کیا ووٹ بینک کی سیاست
ان کی اخلاقیات سے زیادہ اہم ہے؟
کیا “سیکولرازم” کا مطلب صرف ہندو سماج کو قصوروار ٹھہرانا اور اصل شدت پسندی پر آنکھ بند کر لینا ہے؟
مذہبی تبدیلی کے نام پر چل رہے اس دہشت کے خلاف خاموشی، دہشت گردی کی خاموش حمایت ہے!
ہر بھارتی کو، ہر سیاسی جماعت کو، ہر نظریے کو اس خطرے کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔
عزت مآب @myogiadityanath جی کی قیادت میں یوپی میں ہر ایسے گینگ کو تباہ کیا جا رہا ہے،
لیکن پورے بھارت میں یہ لڑائی تبھی جیتی جائے گی جب سیاست نہیں، قوم مقدم ہو گی۔
ملک بھر میں ہو رہے منظم اور اجتماعی مذہبی تبدیلی کے معاملات کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ایک جامع اور سخت “مرکزی انسدادِ تبدیلی مذہب قانون“ (Anti-Conversion Act) بنایا جائے۔
آج میں نے ایک خط لکھ کر مرکزی وزیر قانون جناب @arjunrammeghwal جی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک سخت قانون بنایا جائے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہوں:
- تعریف اور درجہ بندی:
- غیر قانونی تبدیلیِ مذہب، اجتماعی تبدیلی، شادی کے ذریعے تبدیلی، اور بیرونی فنڈنگ سے کیے گئے لالچ کی واضح قانونی تعریف ہو۔
- منظم تبدیلی کو نظریاتی شدت پسندی اور ذہنی استحصال کی ایک شکل تسلیم کیا جائے۔
- سخت سزا کی فراہمی:
- اجتماعی تبدیلی کے سرغنہ، بار بار جرم کرنے والے اور دہشتگرد تنظیموں سے جُڑے افراد کو عمر قید دی جائے۔
- زبردستی مذہب تبدیل کروانے والے ایجنٹس، دلالوں اور نیٹ ورک آپریٹرز کو کم از کم 7 سے 10 سال قید کی سزا دی جائے۔
- حفاظتی طریقہ کار:
- مذہب تبدیل کرنے سے پہلے اور بعد میں متعلقہ فرد کو ضلع مجسٹریٹ کے سامنے حلف نامہ جمع کرانا لازمی ہو۔
- شادی پر مبنی تبدیلی کی عدالتی نگرانی اور ضلعی سطح کی جانچ لازم کی جائے۔
- نگرانی اور نفاذ کا نظام:
- ایک قومی انسدادِ تبدیلیِ مذہب اتھارٹی (National Anti-Conversion Authority) قائم کی جائے، جو اجتماعی تقریبات، فنڈنگ کے ذرائع، اور بین ریاستی نیٹ ورکس پر نظر رکھے۔
- NIA کو ان تبدیلیِ مذہب کے کیسز کی تفتیش کا اختیار دیا جائے، جن کے دہشتگرد تنظیموں یا بیرونی فنڈنگ سے تعلق ہوں۔
- متاثرین کا تحفظ:
- مذہبی تبدیلی کے گینگ سے بازیاب لڑکیوں کو فوری بحالی، قانونی مدد اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
- جعلی شناخت چھپانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ڈیجیٹل شدت پسندی پھیلانے والوں پر سخت کارروائی کی جائے۔
- NGO اور غیر ملکی چندے پر کنٹرول (FCRA):
- جن NGOs کا استعمال مذہبی تبدیلی کے لیے ہو رہا ہے، ان پر پابندی لگائی جائے یا سخت نگرانی رکھی جائے۔
- FCRA قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے اور مذہبی اداروں اور چیریٹیز کا باقاعدہ آڈٹ لازمی قرار دیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

