کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی۔
بالاسور: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اڈیشہ کے بالاسور میں خودکشی کرنے والی طالبہ کے والد سے بات کی ہے۔ جنسی ہراسانی سے پریشان لڑکی نے 12 جولائی کو کالج کے سامنے خود کو آگ لگا لی تھی۔ تین دن بعد متاثرہ کی ایمس بھونیشور میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔ بدھ کے روز راہل گاندھی نے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم ہر قیمت پر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف ملے۔
متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کی یقین دہانی
راہل گاندھی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’اڈیشہ کے بالاسور میں انصاف کی لڑائی میں اپنی جان گنوانے والی بہادر بیٹی کے والد سے بات کی، ان کی آواز میں بیٹی کے درد، خواب اور جدوجہد کو محسوس کیا، انہیں یقین دلایا کہ کانگریس پارٹی اور میں ہر قدم پر ان کے ساتھ ہیں۔ جو کچھ ہوا وہ نہ صرف غیر انسانی اور شرمناک ہی نہیں، پورے سماج کا زخم ہے۔ ہم ہر قیمت پر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف ملے۔‘‘
’’اس بار بھی بی جے پی کا سسٹم ملزم کو بچاتا رہا‘‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر کانگریس ایم پی نے لکھا، ’’اس بہادر طالبہ نے جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن انصاف دینے کے بجائے اسے دھمکیاں دی گئیں، ہراساں اور بار بار ذلیل کیا گیا، جنہیں اس کی حفاظت کرنی تھی، وہی اسے توڑتے رہے۔ ہر بار کی طرح، بی جے پی کا سسٹم ملزم کو بچاتا رہا اور ایک معصوم بیٹی کو خود کو آگ لگانے پر مجبور کر دیا۔‘‘
’’اڈیشہ ہو یا منی پور، ملک کی بیٹیاں جل رہی ہیں‘‘
راہل گاندھی نے مزید لکھا، ’’یہ خودکشی نہیں ہے، یہ سسٹم کے ذریعہ منظم قتل ہے۔ پی ایم مودی، اڈیشہ ہو یا منی پور، ملک کی بیٹیاں جل رہی ہیں، ٹوٹ رہی ہیں اور دم توڑ رہی ہیں، اور آپ خاموش بنے بیٹھے ہیں۔ ملک کو آپ کی خاموشی نہیں، جواب چاہئے، ہندوستان کی بیٹیوں کو تحفظ اور انصاف چاہئے۔‘‘
17 جولائی کو ’ریاستی گیر بند‘ کی کال
بالاسور واقعہ کے بعد اڈیشہ میں کانگریس سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ اڈیشہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھگت چرن داس کی قیادت میں بالاسور میں ایک کینڈل مارچ نکالا گیا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس واقعے کے خلاف 17 جولائی کو ’ریاستی گیر بند‘ کی کال دی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
