سپریم کورٹ نے اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کی منظوری منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی منظوری منسوخ کرنے والی عرضی سننے سے سپریم کورٹ نے انکارکردیا ہے۔ عرضی گزارنے اسدالدین اویسی کی پارٹی کومذہبی بنیاد پرتشکیل کئے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اگرعرضی گزارمذہبی یا ذات پات کی بنیاد پرووٹ مانگنے والی پارٹیوں کے خلاف بات رکھنا چاہتا ہے توایک جامع پٹیشن دائرکرے۔
شیوسینا لیڈر نے داخل کی تھی عرضی
اے آئی ایم آئی ایم کی منظوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی شیوسینا لیڈرتروپتی نرسمہا مراری کی تھی۔ اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے 16 جنوری 2025 کواسے خارج کردیا تھا۔ سپریم کورٹ میں معاملہ جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بینچ کے سامنے لگا۔ سماعت کی شروعات میں ہی بینچ نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم کا کہنا ہے کہ وہ سبھی پسماندہ اورمحروم لوگوں کی بات کرتی ہے۔
مذہبی بنیاد پرپارٹی کی تشکیل کا دعویٰ
عرضی گزارکے وکیل وشنوجین نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم مذہبی بنیاد پربنی پارٹی ہے۔ اسلامی تعلیم کوفروغ دینے جیسی کئی ایسی باتیں کہتی ہے، جس میں واضح طورپرمذہب کے نام پر ووٹ مانگا جاتا ہے۔ اس پرعدالت نے کہا کہ کئی پارٹیاں مذہب یا ذات پات کی بنیاد پررائے دہندگان کومتاثرکرتی ہیں۔ تاہم ابھی قانون میں صرف یہی سہولت ہے کہ مذہبی بنیاد پرووٹ مانگنے والے امیدوارکے خلاف عرضی داخل ہو سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے مداخلت سے کردیا انکار
عرضی گزارکے وکیل نے 2017 میں ابھی رام سنگھ کیس میں آئے سپریم کورٹ کے سات ججوں کی آئینی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ اس فیصلے میں عدالت نے مذہب، ذات، فرقہ یا زبان کی بنیاد پرووٹ مانگنے کی عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 123 (3) کے تحت ایک کرپٹ پریکٹس کہا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکارکردیا۔ اس کے بعد عرضی گزارنے عرضی واپس لے لی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


